LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلاول بھٹو کا جوائنٹ کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے جواب کا خیرمقدم امریکا کی مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کو انخلا کیلئے تیار رہنے کی ہدایت وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی و سیاسی صورتحال پر مشاورت بارشیں اور سیلابی صورتحال: وزارت ریلوے ہائی الرٹ، افسران کی چھٹیاں منسوخ دہشتگردی کی منصوبہ بندی میں ملوث کالعدم تنظیم کے تین ملزمان کو 7، 7 سال قید کی سزا آزاد کشمیر انتخابات: ملتان میں دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل، کانٹے دار مقابلے کا امکان شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 5 دہشت گرد ہلاک، میجر شہید ہر گھرغریب، معیشت بدترین بحران کا شکار ہے: شاہد خاقان عباسی حکومت پر برس پڑے عرفان صادق تارڑ پراسکیوٹر جنرل پنجاب تعینات افواجِ پاکستان اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی شراکت دار، امن و استحکام کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل امن منصوبے پر مثبت پیش رفت: 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے: دفتر خارجہ سندھ میں نئے صوبے کی ضرورت نہیں، یہ پنجاب کی عوام کا مطالبہ ہے، سعید غنی خطے کے ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں: ایرانی فوج پنجاب میں ماتحت عدلیہ کے ججز پر مونیٹائزیشن پالیسی نافذ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: 21 نشستوں پر پولنگ کل، 12 لاکھ سے زائد ووٹرز شامل

شوگر کے مریضوں کے لیے خوشخبری، جدید اور مؤثر علاج دریافت

Web Desk

5 January 2026

ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے علاج اور بیماری کی روک تھام کے حوالے سے سائنسدانوں نے ایک اہم پیش رفت کر لی ہے، جس سے مستقبل میں مؤثر اور دیرپا علاج کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق ماہرین نے ایک ایسے جین SMOC1 کی نشاندہی کی ہے جو ٹائپ 2 شوگر کے پیدا ہونے اور بڑھنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جین کو ہدف بنا کر علاج کے نئے طریقے متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ SMOC1 جین لبلبے میں موجود ان خلیات کو متاثر کرتا ہے جو خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس جین کی غیر معمولی سرگرمی کے باعث انسولین بنانے والے خلیات اپنا اصل کام چھوڑ کر گلوکاگون پیدا کرنے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں خون میں شکر کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹائپ 2 شوگر کے مریضوں میں انسولین پیدا کرنے والے بیٹا خلیات اپنی شناخت کھو بیٹھتے ہیں اور الفا خلیات کی طرح برتاؤ کرنے لگتے ہیں۔ صحت مند افراد میں بیٹا اور الفا خلیات باہمی توازن کے ذریعے شوگر لیول کو قابو میں رکھتے ہیں، تاہم مریضوں میں یہ نظام متاثر ہو جاتا ہے، جس سے انسولین کی کمی اور گلوکاگون کی زیادتی پیدا ہو جاتی ہے۔

تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جینیاتی عمل کو بہتر طور پر سمجھنا ٹائپ 2 شوگر کے علاج میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں ایسے جدید علاج متعارف کرائے جا سکتے ہیں جو صرف علامات کے بجائے بیماری کی بنیادی وجہ کو نشانہ بنا کر مریضوں کی صحت اور معیارِ زندگی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکیں۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت ذیابیطس کے خلاف عالمی سطح پر جاری تحقیق میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے لاکھوں مریضوں کے لیے نئی امید پیدا ہوئی ہے۔