LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

وزن کم کرنے والے انجیکشن بچوں کے لیے بھی محفوظ؟ تحقیق نے اہم اشارہ دے دیا

Web Desk

20 July 2026

کینیڈا کے محققین کی ایک نئی جائزہ تحقیق اور میٹا اینالیسز کے مطابق شدید موٹاپے کا شکار 6 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو مخصوص حالات میں GLP-1 ویٹ لاس انجیکشنز (جیسے مونجارو یا ویگووی) سے نمایاں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ 6 سے 18 سال کی عمر کے 750 سے زائد بچوں پر کی گئی 9 مختلف تحقیقات کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ ادویات نہ صرف وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں بلکہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر میں کمی اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر رہیں۔ برطانیہ میں این ایچ ایس پہلے ہی سنگین طبی پیچیدگیوں کی صورت میں محدود شرائط کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کو یہ ادویات تجویز کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان انجیکشنز سے بچوں میں متلی کا ضمنی اثر نسبتاً زیادہ دیکھا گیا ہے، لہٰذا ان کا استعمال صرف ماہر معالج کی زیرِ نگرانی اور مکمل طبی معائنے کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔