LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
’60 فیصد سے زائد امریکی عوام ایران امریکا امن معاہدے کے حامی ہیں’، ٹرمپ نے سروے نتائج شیئر کردیے بحیرہ جنوبی چین میں جھڑپ، چین اور فلپائن کے فوجی آپس میں گتھم گتھا، ویڈیو وائرل گیس سیکٹر کے گردشی قرضے پر آئی ایم ایف کی نئی شرائط پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی افغان طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں، عالمی سطح پر آوازیں اٹھنے لگیں بھارتی نوجوان یک زبان، کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چناب میں خانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے حصص بازاروں کو ہلا کر رکھ دیا طلبہ کی مدد کیلئے مصنوعی ذہانت سے چلنے والا انسانی روبوٹ متعارف امریکا کے مسلسل دسویں رات حملے، ایران کی کویت اور بحرین میں جوابی کارروائی پہلی بار AI نے دوسری اے آئی کمپنی کو ہیک کر دیا گوگل نے اینڈرائیڈ 16 میں سکیورٹی خامی کی تصدیق کر دی سابقہ وطن واپسی پر ملالہ یوسفزئی کی سالگرہ کی تقریب: تعلیم اور لڑکیوں کے حقوق کے عزم کا اعادہ بھارت: یونیورسٹی داخلہ امتحانات میں دھاندلی کے خلاف ہزاروں طلباء سڑکوں پر نکل آئے، نوجوانوں میں شدید غم و غصہ شرقِ اوسط میں بڑھتی کشیدگی: امریکہ کا دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ‘عالمی الرٹ’ جاری

وزن کم کرنے والے انجیکشن بچوں کے لیے بھی محفوظ؟ تحقیق نے اہم اشارہ دے دیا

Web Desk

20 July 2026

کینیڈا کے محققین کی ایک نئی جائزہ تحقیق اور میٹا اینالیسز کے مطابق شدید موٹاپے کا شکار 6 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو مخصوص حالات میں GLP-1 ویٹ لاس انجیکشنز (جیسے مونجارو یا ویگووی) سے نمایاں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ 6 سے 18 سال کی عمر کے 750 سے زائد بچوں پر کی گئی 9 مختلف تحقیقات کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ ادویات نہ صرف وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں بلکہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر میں کمی اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر رہیں۔ برطانیہ میں این ایچ ایس پہلے ہی سنگین طبی پیچیدگیوں کی صورت میں محدود شرائط کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کو یہ ادویات تجویز کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان انجیکشنز سے بچوں میں متلی کا ضمنی اثر نسبتاً زیادہ دیکھا گیا ہے، لہٰذا ان کا استعمال صرف ماہر معالج کی زیرِ نگرانی اور مکمل طبی معائنے کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔