LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کو ایران کے تمام علاقے مکمل تباہ کرنے کے احکامات دیے جا چکے: ٹرمپ امریکی محکمہ خارجہ کی افغان طالبان رجیم پر تنقید، یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ پاکستان نے ایل این جی کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا ایران نے جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی، امریکا خلاف ورزی کر رہا ہے: عراقچی پولیس نے طالبہ سے گن پوائنٹ پر زیادتی کرنے والے ملزم کے والد کو حراست میں لے لیا امریکی صدر ٹرمپ سینیٹ پر برہم، بل پر دستخط سے انکار کر دیا ایران نے اقوام متحدہ سے امریکا کے احتساب کا مطالبہ کر دیا امریکی صدر اور سعودی ولی عہد کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال ورلڈ بینک کے صدر کو فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹ بال ’ٹرائیونڈا‘ کا تحفہ، سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ کی اجے بنگا سے ملاقات ظہران ممدانی امریکی یہودیوں میں نیتن یاہو سے زیادہ مقبول قرار امریکا کا ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے بند کرنے کے عوامی اعلان کا مطالبہ، ساتھ دھمکی بھی دیدی ایرانی وزارت صحت کی بھی فضائی حملوں میں 17 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق اسرائیل کا جنوبی لبنان کے قصبے پر ڈرون حملہ، ایک شخص جاں بحق اسرائیل کی کارروائیاں، 10 دن میں 67 فلسطینی بے گھر، 12 عمارتیں مسمار ہوگئیں: اقوام متحدہ ایرانی وزیر خارجہ آج عمان کا دورہ، خطے کی بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کریں گے

آئی ایم ایف معاہدہ خوش آئند، مگر معاشی استحکام ہی کافی نہیں: صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ

Web Desk

28 March 2026

کراچی: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی، جس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے خبردار کیا کہ صرف معاشی استحکام ہی حتمی مقصد نہیں ہونا چاہیے؛ حکومت کو چاہیے کہ وہ صنعت و تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو فی الفور دور کرے۔ عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں بلند کاروباری لاگت اور عالمی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے صنعت کار شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے فوری طور پر ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی جائیں۔

عاطف اکرام شیخ نے سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد کو بڑھانے کے لیے شرحِ سود میں نمایاں اور فوری کمی کا مطالبہ بھی کیا۔ ٹیکس نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت کو ٹیکس نیٹ وسیع کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے بقول، صنعتوں کو سہولیات فراہم کر کے ہی ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔