LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب نے اپنے اخراجات کو بڑی حد تک محدود کیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا:مریم اورنگزیب سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل، پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ بلوچستان گرینڈ الائنس کا مطالبات کے حق میں اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کا مقام تبدیل ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا، ابراہیم عزیزی

مٹاپے کا سبب بننے والے پانچ نئے جینز دریافت

Web Desk

31 October 2025

محققین نے ایک درجن سے زیادہ جینز کی نشان دہی کی ہے جو انسان کے مٹاپے میں مبتلا ہونے کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان جینز میں پانچ بالکل نئی دریافت ہیں۔
مٹاپہ ٹائپ ٹو ذیا بیطس، قلبی مرض اور آسٹو آرتھرائٹس جیسی سحت کی پیچیدہ کیفیات کےخطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں 8 لاکھ 50 ہزار افراد نے حصہ لیا جن کے آبا و اجداد کا تعلق چھ برِاعظموں سے تھا اور ان میں 13 جینز پائے گئے جن کا تعلق مٹاپے سے تھا
ان جینز میں سے آٹھ ایسے تھے جو ماضی کے مطالعوں میں دریافت کیے جا چکے ہیں، لیکن دیگر پانچ جینز ایسے ہیں جن کی شناخت پہلی بار کی گئی ہے۔ ان جینز میں YLPM1, RIF1, GIGYF1, SLC5A3 اور GRM7 شامل ہیں۔
محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج دنیا بھر کے اہم جینز کو سامنے لانے کے بعد مؤثر دوا بنانے میں مدد دے سکتے ہیں جو شاید ایک قسم کی آبادی پر کیے جانے والے مطالعے میں ممکن نہیں تھی۔