LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کرک میں گیس کنکشن کرتے ہوئے دھماکہ، مکان کا ایک حصہ منہدم، 4 افراد جاں بحق پاکستان کی مدینہ پاور سٹیشن پر حوثی حملے کی مذمت، سعودیہ سے اظہارِ یکجہتی طلبہ وفد کا واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کا دورہ، سفارتی کردار میں اظہار دلچسپی مدینہ پاور سٹیشن پر حوثی حملے کے بعد یمنی فوج کی دارالحکومت صنعا میں کارروائی اماراتی پرواز واقعہ میں ایران ملوث ہوا تو اسے بہت سخت نشانہ بنایا جائے گا: ٹرمپ امریکی ریاست نیو جرسی کی مارلبورو ٹاؤن شپ پر مسجد کی تعمیر سے انکار پر وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان مذاکرات آج ہوں گے حوثی ملیشیا کے 2 میزائل، 4 ڈرونز فضا میں ہی تباہ کر دیئے: ترجمان اتحادی افواج ٹرمپ کے ایرانی فوج کے مکمل تباہ ہونے کے بیان میں کوئی صداقت نہیں: مجید ابن رضا ڈیزل کی قیمتیں ایک سال تک معمول پر نہیں آسکیں گی: امریکی کمپنیوں نے خبردار کر دیا امریکا میں ہاؤسنگ قرضوں کی شرح 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر ریکارڈ اضافہ معاون پائلٹ نے طیارے کے کپتان پرحملہ کیا، سعودی اور اماراتی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ایرانی میڈیا نے اماراتی طیارے کے واقعہ کو ’’فالزفلیگ‘‘ کارروائی قرار دیدیا پوری دنیا ایرانی قوم کی ہمت، بہادری اور استقامت پر حیران ہے: صدر پیوٹن

مٹاپے کا سبب بننے والے پانچ نئے جینز دریافت

Web Desk

31 October 2025

محققین نے ایک درجن سے زیادہ جینز کی نشان دہی کی ہے جو انسان کے مٹاپے میں مبتلا ہونے کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان جینز میں پانچ بالکل نئی دریافت ہیں۔
مٹاپہ ٹائپ ٹو ذیا بیطس، قلبی مرض اور آسٹو آرتھرائٹس جیسی سحت کی پیچیدہ کیفیات کےخطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں 8 لاکھ 50 ہزار افراد نے حصہ لیا جن کے آبا و اجداد کا تعلق چھ برِاعظموں سے تھا اور ان میں 13 جینز پائے گئے جن کا تعلق مٹاپے سے تھا
ان جینز میں سے آٹھ ایسے تھے جو ماضی کے مطالعوں میں دریافت کیے جا چکے ہیں، لیکن دیگر پانچ جینز ایسے ہیں جن کی شناخت پہلی بار کی گئی ہے۔ ان جینز میں YLPM1, RIF1, GIGYF1, SLC5A3 اور GRM7 شامل ہیں۔
محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج دنیا بھر کے اہم جینز کو سامنے لانے کے بعد مؤثر دوا بنانے میں مدد دے سکتے ہیں جو شاید ایک قسم کی آبادی پر کیے جانے والے مطالعے میں ممکن نہیں تھی۔