LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور چینی کمپنیوں کے درمیان 7 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر دستخط ایران کی کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون پر زور 8ذوالحج: مناسک حج کا آغاز، 20 لاکھ سے زائد عازمین منیٰ پہنچنے لگے بلوچستان حملہ پوری قوم کے دل پر وار ہے: نواز شریف واٹس ایپ میں نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاری، فون نمبر کے بغیر یوزر نیم سے چیٹ ممکن ہوگی امریکی صدر ٹرمپ کا ایران امریکا جنگ کو ’الوداع‘ کا اشارہ، اے آئی تصویر اور پوسٹ نے نئی بحث چھیڑ دی ٹرین دھماکے سمیت بلوچستان میں بڑھتی بدامنی پر انسانی حقوق کمیشن کا شدید تشویش کا اظہار بھارت میں شدید ہیٹ ویو، درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز، 16 افراد جان کی بازی ہار گئے ویرات کوہلی ٹریوس ہیڈ سے ہاتھ ملائے بغیر گزر گئے، سوشل میڈیا پر شدید تنقید پاکستان : اندرون اور بیرون ملک فلائٹ آپریشن متاثر ، 83 پروازیں منسوخ حجاج کے تحفظ کیلئے جامع دفاعی انتظامات مکمل، مقدس مقامات کی فضائی نگرانی سخت عید تعطیلات میں تبدیلی، سندھ میں 26 سے 28 مئی تک چھٹیاں ہوں گی  بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع ممکن نہیں:سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ کوئٹہ میں ریلوے ٹریک پر خوفناک دھماکہ، 25 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی لاہور میں شدید گرمی برقرار، محکمہ موسمیات کی بارش سے متعلق اہم پیشگوئی

مٹاپے کا سبب بننے والے پانچ نئے جینز دریافت

Web Desk

31 October 2025

محققین نے ایک درجن سے زیادہ جینز کی نشان دہی کی ہے جو انسان کے مٹاپے میں مبتلا ہونے کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان جینز میں پانچ بالکل نئی دریافت ہیں۔
مٹاپہ ٹائپ ٹو ذیا بیطس، قلبی مرض اور آسٹو آرتھرائٹس جیسی سحت کی پیچیدہ کیفیات کےخطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں 8 لاکھ 50 ہزار افراد نے حصہ لیا جن کے آبا و اجداد کا تعلق چھ برِاعظموں سے تھا اور ان میں 13 جینز پائے گئے جن کا تعلق مٹاپے سے تھا
ان جینز میں سے آٹھ ایسے تھے جو ماضی کے مطالعوں میں دریافت کیے جا چکے ہیں، لیکن دیگر پانچ جینز ایسے ہیں جن کی شناخت پہلی بار کی گئی ہے۔ ان جینز میں YLPM1, RIF1, GIGYF1, SLC5A3 اور GRM7 شامل ہیں۔
محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج دنیا بھر کے اہم جینز کو سامنے لانے کے بعد مؤثر دوا بنانے میں مدد دے سکتے ہیں جو شاید ایک قسم کی آبادی پر کیے جانے والے مطالعے میں ممکن نہیں تھی۔