LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خواتین کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ میرا خواب ہے: مریم نواز آبنائے ہرمز کے قریب نئی کشیدگی، بندر عباس اور جزیرہ قشم کے قریب یکے بعد دیگرے دھماکے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے نئی گج ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے تک عدالتی مداخلت پر پابندی اسلام نے 14 صدیاں قبل خواتین کو مساوات اور معاشی حقوق دیے: یوسف رضا گیلانی ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 2 اہلکار شہید، متعدد زخمی او آئی سی کانفرنس، خواتین کی ترقی مسلم دنیا کی خوشحالی کی ضمانت ہے: اعظم نذیر وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے، نواز شریف بھی ہمراہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مشترکہ طریقہ کار میں امریکا رکاوٹ بن رہا ہے: اسماعیل بقائی ضلع دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، متعدد مکانات اور رابطہ پل بہہ گئے وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ؛ نئی گج ڈیم کیس میں ہائی کورٹ کا حکم کالعدم یوکرینی صدر نے وزیراعظم یولیا کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت مستعفی وفاق اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرے، سہیل آفریدی بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 52 ہوگئی مریم نواز سے پرتگال کے سفیر کی ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

آئندہ مالی سال کا بجٹ 290 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنے گا، وزارت خزانہ

Web Desk

5 June 2026

اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاریوں کے حوالے سے اہم ترین فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے بجٹ کے لیے امریکی ڈالر کی قیمت کا تخمینہ 290 روپے فی ڈالر برقرار رکھا جائے گا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق، وفاقی حکومت نے رواں مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں بھی ڈالر کا ریٹ 290 روپے ہی لگایا تھا، اور اب آئندہ مالی سال کے لیے بھی اسے اسی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم، تفصیلی نظرثانی (بجٹ ریویو) کے بعد رواں مالی سال کے لیے حقیقی ریٹ 280 روپے فی ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے ایکسچینج ریٹ کے مینوئل کو دیکھا جائے تو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں نمایاں اور ریکارڈ استحکام دیکھا گیا ہے۔

وزیرِ خزانہ کے قریبی ذرائع نے روپے کے اس استحکام کی بنیادی وجوہات بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ رواں سال بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ پچھلے سالوں کے مقابلے میں کافی کم رہا ہے، جس نے مقامی کرنسی کو گرنے سے بچایا ہے۔

ذرائع کے مطابق، بجٹ دستاویزات میں ڈالر کا ایک مخصوص ریٹ متعین کرنے کا بنیادی مقصد بیرونی امداد، بین الاقوامی ادائیگیوں اور غیر ملکی قرضوں کا درست تخمینہ پاکستانی روپوں میں لگانا ہوتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ بجٹ میں تخمینہ لگانے کے باوجود ڈالر کا حتمی ریٹ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ طے شدہ سخت شرائط کے مطابق مکمل طور پر ‘مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ’ پر ہی منحصر ہوگا۔ تاہم، ایکسچینج مارکیٹ میں مقامی کرنسی کے مستحکم رہنے کی وجہ سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔

مالیاتی حکام اور معاشی ماہرین کے مطابق، آئندہ مالی سال کے دوران ڈالر کا ریٹ کنٹرول اور مستحکم رہنے کے باعث پاکستان کا مجموعی درآمدی بل (Import Bill) قابو میں رہے گا، جس کا براہِ راست مثبت اثر ملکی افراطِ زر (مہنگائی) پر پڑے گا اور اس میں کمی آئے گی۔

نئے مالیاتی مینوئل کے تحت دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والی دو طرفہ تجارت، بیرونی قرضوں کی اقساط، غیر ملکی امداد اور نئی سرمایہ کاری کے لیے تمام غیر ملکی کرنسیوں کے ممکنہ نرخوں کا تخمینہ بھی اسی مانیٹری پالیسی کے تحت لگا لیا گیا ہے۔