LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز کے قریب نئی کشیدگی، بندر عباس اور جزیرہ قشم کے قریب یکے بعد دیگرے دھماکے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے نئی گج ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے تک عدالتی مداخلت پر پابندی اسلام نے 14 صدیاں قبل خواتین کو مساوات اور معاشی حقوق دیے: یوسف رضا گیلانی ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 2 اہلکار شہید، متعدد زخمی او آئی سی کانفرنس، خواتین کی ترقی مسلم دنیا کی خوشحالی کی ضمانت ہے: اعظم نذیر وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے، نواز شریف بھی ہمراہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مشترکہ طریقہ کار میں امریکا رکاوٹ بن رہا ہے: اسماعیل بقائی ضلع دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، متعدد مکانات اور رابطہ پل بہہ گئے وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ؛ نئی گج ڈیم کیس میں ہائی کورٹ کا حکم کالعدم یوکرینی صدر نے وزیراعظم یولیا کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت مستعفی وفاق اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرے، سہیل آفریدی بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 52 ہوگئی مریم نواز سے پرتگال کے سفیر کی ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق آئینی عدالت کا پیرسوہاہ مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار

آبنائے ہرمز کے قریب نئی کشیدگی، بندر عباس اور جزیرہ قشم کے قریب یکے بعد دیگرے دھماکے

Web Desk

13 July 2026

ایران کے جنوبی ساحلی شہر بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف ایک بار پھر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس کے بعد خطے میں پہلے سے موجود تزویراتی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘مہر’ کے مطابق، اتوار کو ہونے والے ان دھماکوں سے ابتدائی اطلاعات میں کسی رہائشی یا تجارتی انفراسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی شہری ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند راتوں کے دوران ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں پر امریکی افواج کی جانب سے مبینہ حملے کیے گئے، جن میں متعدد ماہی گیر اور دفاع پر مامور اہلکار جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ایرانی حکام نے ان کارروائیوں کو ملکی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکا پر خطے میں جنگ کی آگ کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے، جب کہ امریکی حکام کی جانب سے اس پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دفاعی مبصرین کے مطابق، آبنائے ہرمز کے قریب واقع ان حساس ترین علاقوں میں کشیدگی عالمی سمندری تجارت اور تیل کی ترسیل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔