LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر انتخابات کے دوران پبلک سروس کمیشن میں 7 نئے ارکان کی تقرری، اپوزیشن کا اعتراض پاکستان نے افغانستان میں ہتھیاروں کی مبینہ اسمگلنگ کا طالبان کا دعویٰ مسترد کردیا نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کردیا وزیراعظم کا بلوچستان سے پیش کیے گئے حب الوطنی نغمے پر فنکاروں کو خراجِ تحیسن غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 19 فلسطینیوں کی لاشیں برآمد مکہ مشترکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے: اسحاق ڈار کی وضاحت ایران کی 40 روزہ جنگ کے دوران 3519 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے پر عملدرآمد تک مذاکرات نہیں ہوں گے: عراقچی ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کرنے جا رہی ہے: علی پرویز گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت

نئی گج ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے تک عدالتی مداخلت پر پابندی

Web Desk

13 July 2026

وفاقی آئینی عدالت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے اور احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور منصوبے کی تکمیل تک کسی بھی عدالت کو اس معاملے میں مداخلت سے روک دیا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کا تحریر کردہ 17 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ان ہدایات کا مقصد مزید قانونی چارہ جوئی کو ایک اہم عوامی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ بننے سے روکنا ہے۔ فیصلے میں ریمارکس دیے گئے ہیں کہ ہائی کورٹ نے قانون کو مدنظر رکھے بغیر غلط ہدایات جاری کیں اور اپنے احکامات میں تنازعات کے حل سے متعلق معاہدے، واپڈا ایکٹ اور نیب قوانین کو بھی پیشِ نظر نہیں رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کے دائرۂ اختیار کو ازسرِ نو نہیں لکھا جا سکتا اور آئینی حدود سے تجاوز انصاف کی کھلی خرابی کا باعث بنتا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے توقع ظاہر کی ہے کہ تمام فریقین اصل معاہدے کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھائیں گے؛ کنٹریکٹر کی شکایت موصول ہونے پر واپڈا 15 روز کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا، جب کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں واپڈا کو قانون کے مطابق کاموں کو دوبارہ ٹینڈر کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔