LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوئٹہ سے دیگر صوبوں کو جانے والی ٹرین سروس ایک روز کیلئے معطل رہبرِ انقلاب نے دشمن کے خلاف قومی اتحاد، یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا: ایرانی صدر ایرانی دھمکی کے باعث ٹرمپ کا ترکیہ سے برطانیہ تک خفیہ فوجی پرواز میں سفر امریکا اور اسرائیل کے شام سے جوہری مواد ہٹانے کے لیے مذاکرات کامیاب بانی اور اہلیہ کی قید تنہائی: بیرسٹر سلمان نے تحریری دلائل جمع کرا دیئے یوکرینی صدر اور سعودی ولی عہد کا رابطہ، ڈرونز معاہدے سمیت مختلف امور پر گفتگو ملکی ترقی و خوشحالی میں اقلیتوں کا کردار انتہائی اہم ہے: فیصل کریم کنڈی ہانگ کانگ میں درجہ حرارت 42 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا سعودیہ کے شاہ سلمان ریلیف مرکز کا غزہ میں ’’مکہ سکول‘‘ کا قیام، ایک ہزار طلبہ مستفید ہونگے صدر ٹرمپ نے ول شارف کو نیا اسسٹنٹ ٹو دی پریذیڈنٹ اور وائٹ ہاؤس کونسل مقرر کردیا برطانیہ کا گمراہ ڈسکاؤنٹس اور سبسکرپشن فراڈ کیخلاف نئے اقدامات کا اعلان سعودی نئی فضائی کمپنی ریاض ایئر کا بنگلہ دیش کیلئے یومیہ پروازوں کا آغاز کولمبیا میں تباہ کن زلزلہ: 111 افراد ہلاک، 87 زخمی، کئی لاپتا، ایمرجنسی نافذ پاکستان میں آج اقلیتوں کا قومی دن منایا جارہا ہے امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کر دیں: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 52 ہوگئی

Web Desk

13 July 2026

بنگلہ دیش میں مسلسل موسلا دھار بارشوں اور بدترین سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 52 ہو گئی ہے جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد شدید متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق، ملک کے 7 اضلاع میں سیلاب کی صورتحال بدستور تشویشناک بنی ہوئی ہے، جہاں سب سے زیادہ اموات کاکس بازار کے علاقے میں ریکارڈ کی گئیں۔ سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں، پل اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے سے کئی اضلاع کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے، جس سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس وقت تقریباً 2 لاکھ 67 ہزار 918 خاندان سیلابی پانی میں محصور ہیں، جنہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے بنگلہ دیشی فوج، بحریہ اور دیگر امدادی ادارے کشتیوں کے ذریعے ریسکیو آپریشنز میں مصروف ہیں۔ متاثرہ اور دور دراز علاقوں میں پھنسے شہریوں تک خوراک، پینے کا صاف پانی، ادویات اور دیگر طبی امداد پہنچانے کا سلسلہ بھی تیزی سے جاری ہے۔