LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے، نواز شریف بھی ہمراہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مشترکہ طریقہ کار میں امریکا رکاوٹ بن رہا ہے: اسماعیل بقائی ضلع دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، متعدد مکانات اور رابطہ پل بہہ گئے وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ؛ نئی گج ڈیم کیس میں ہائی کورٹ کا حکم کالعدم یوکرینی صدر نے وزیراعظم یولیا کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت مستعفی وفاق اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرے، سہیل آفریدی بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 52 ہوگئی مریم نواز سے پرتگال کے سفیر کی ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق آئینی عدالت کا پیرسوہاہ مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار قومی ٹیسٹ اسکواڈ دورۂ ویسٹ انڈیز کے لیے روانہ؛ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 2 ہزار سے زائد پوائنٹس گر گیا یومِ شہدائے کشمیر،13 جولائی حق، قربانی اور استقامت کا عظیم دن ہے: محسن نقوی امریکا کے سرک، بندر عباس اور جاسک پر حملے، پہلی بار سمندری ڈرون استعمال وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر روانہ پاسداران انقلاب نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل داغ دیئے

وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ؛ نئی گج ڈیم کیس میں ہائی کورٹ کا حکم کالعدم

Web Desk

13 July 2026

وفاقی آئینی عدالت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کا اہم فیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے اور احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کا تحریر کردہ 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں آئینی عدالت نے ڈیم کی تکمیل تک کسی بھی دوسری عدالت کو اس منصوبے میں مداخلت سے روک دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ اس ہدایت کا مقصد مزید قانونی چارہ جوئی کو ایک اہم عوامی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ بننے سے روکنا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے قانون، واپڈا اور نیب قوانین کو مدنظر رکھے بغیر غلط ہدایات جاری کیں، اور آئینی حدود سے تجاوز کے نتیجے میں انصاف کی کھلی خرابی ہوتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو دوبارہ لکھنے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے توقع ظاہر کی ہے کہ تمام فریقین اصل معاہدے کے مطابق آگے بڑھیں گے، اور کنٹریکٹر کی شکایت موصول ہونے کے بعد واپڈا 15 روز میں فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔ مزید برآں، کنٹریکٹر کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں واپڈا قانون کے مطابق کاموں کو دوبارہ ٹینڈر کرنے کے لیے آزاد ہوگا۔