LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان، جنگ بندی ختم ہونے کا دعویٰ آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ؛ حکومت نے وفاق سے رینجرز اور ایف سی اہلکار مانگ لیے ’جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘، نیتن یاہو کی ایران کو سخت وارننگ عوامی مسائل نظرانداز، حافظ نعیم الرحمان کا ملک گیر احتجاج کا اعلان ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان، جنگ بندی ختم ہونے کا دعویٰ غیر ملکی ملازمین کے لیے استعمال ہونے والے ویزا سسٹم میں وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی بے نقاب نجکاری کمیشن بورڈ کا اہم فیصلہ: اسلام آباد ایئرپورٹ نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزری معاہدے کی منظوری اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کی کڑی تنقید؛ “ہزاروں کا قتل کرنے والے حقِ حکمرانی کھو چکے یوکرینی حملوں سے ایک ہفتے میں 38 روسی شہری ہلاک ہوئے: ماریہ زخارووا سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا: سربراہ پاسداران انقلاب گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی حکومت کی اولین ترجیحات ہے: وزیراعظم وزیراعظم سے اقوام متحدہ کی سیکرٹری شپ کے امیدواروں کی ملاقاتیں، عالمی امن کے عزم کا اعادہ جدید جوڈیشل ٹاور منصوبے کا آغاز، چیف جسٹس عالیہ نیلم کل سنگِ بنیاد رکھیں گی وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور مسماری کے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لئے سینیٹ آبی وسائل کمیٹی؛ 508 ارب کا نیلم جہلم منصوبہ ٹنل فالٹ کے باعث بند، 2028ء میں دوبارہ فعال کرنے کا ہدف،

فافن نے 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی رپورٹ جاری کر دی

Web Desk

29 November 2025

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے قومی اسمبلی کے 21ویں اجلاس سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ جاری کردی، جس میں 27ویں آئینی ترمیم اور ایوان کی قانون سازی کے عمل کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران ستائیسویں آئینی ترمیم پر مجموعی طور پر 10 گھنٹے 4 منٹ بحث کی گئی، جس میں 57 ارکان نے حصہ لیا۔ حکومتی اراکین نے 5 گھنٹے 45 منٹ جبکہ اپوزیشن نے 4 گھنٹے 19 منٹ تک اظہارِ خیال کیا۔ ترمیم کی منظوری کے وقت ایوان میں 91 فیصد اراکین (296 ارکان) موجود تھے۔

فافن رپورٹ کے مطابق اجلاس میں مجموعی طور پر 7 قانون سازی کے مسودے منظور کیے گئے، جن میں شامل ہیں:

  • پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2025
  • پاکستان ایئر فورس (ترمیمی) بل 2025
  • پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2025
  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر (ترمیمی) بل 2025
  • پرائیویٹائزیشن کمیشن (ترمیمی) بل 2025
  • ڈومیسٹک وائلنس (پروٹیکشن) بل 2024

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے پانچ بل ایک ہی روز قواعد معطل کرکے رول 288 کے تحت پیش اور منظور کیے گئے۔ فافن کے مطابق یہ سلسلہ قانون سازی کے معیاری پارلیمانی طریقہ کار پر سوالات اٹھاتا ہے۔