LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب نے اپنے اخراجات کو بڑی حد تک محدود کیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا:مریم اورنگزیب سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل، پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ بلوچستان گرینڈ الائنس کا مطالبات کے حق میں اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کا مقام تبدیل ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا، ابراہیم عزیزی

توند نکلنے سے ایک اور سنگین مرض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تحقیق

Web Desk

3 December 2025

پیٹ اور کمر کے گرد چربی میں اضافے یا آسان الفاظ میں توند نکلنے سے صرف شخصیت ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ اس سے دل کو بھی سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جرمنی کے University Medical Center Hamburg-Eppendorf کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ جسمانی وزن چاہے کم ہو یا زیادہ، مگر پیٹ اور کمر کے اردگرد چربی جمع ہونے سے دل کی ساخت میں نقصان دہ تبدیلیاں آتی ہیں۔اس تحقیق میں 46 سے 78 سال کی عمر کے 2244 افراد کو شامل کیا گیا۔ان افراد کے جسمانی وزن کی جانچ پڑتال کی گئی جبکہ توند کی چربی کا جائزہ بھی لیا۔اس کے بعد ایم آر آئی اسکینز سے ان کی دل کی صحت کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ توند نکلنے سے دل کے مسلز کی موٹائی بڑھ جاتی ہے جبکہ دل کے چیمبرز کا حجم گھٹ جاتا ہےتحقیق کے مطابق یہ تبدیلیاں مردوں میں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں، خاص طور پر دل کی دائیں شریان میں، جو پھیپھڑوں کو خون پہنچاتی ہے۔محققین نے بتایا کہ اس سے دل پر تناؤ بڑھتا ہے اور یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ یہ اضافی چربی نظام تنفق اور پھیپھڑوں پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیق میں امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والے عناصر کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی مردوں کی دل کی ساخت میں اس فرق کو دریافت کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ جسمانی وزن سے مردوں کی دل کی صحت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔محققین کے مطابق توند اور دل کی صحت کے درمیان تعلق موجود ہے، چاہے جسمانی وزن جتنا کم یا زیادہ ہو۔