LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ماہ نور صفدر کی نکاح کی تقریب، شہباز شریف سمیت اہم شخصیات جاتی امرا پہنچ گئیں پرائیویٹ حج سکیم: 7600 عازمین کی بکنگ مکمل ہو چکی: ترجمان مذہبی امور نئے صوبوں کے قیام کیلئے پورے ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے: فاروق ستار سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم 20 ستمبر کو ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے: حافظ نعیم الرحمان نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت خود ریفرنڈم نہیں کرا سکتی:رانا ثناء اللہ مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ عمومی کا اجلاس 19 اور 20 ستمبر کو پشاور میں طلب کر لیا روس میں بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کا آغاز، 250 پاکستانی نوجوان شریک پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بحالی: وزیراعظم افتخار گیلانی کا اہم اعلان انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر، تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں: چیف جسٹس تھائی لینڈ میں پاکستان کے 61ویں یوم دفاع و شہداء کی پروقار تقریب امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے: مسعود پزشکیان ناروے کے بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی بھی چل بسیں 9/11 انہی لوگوں نے کیا جن کو امریکا نے ہتھیار فراہم کیے تھے: اسماعیل بقائی

توند نکلنے سے ایک اور سنگین مرض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تحقیق

Web Desk

3 December 2025

پیٹ اور کمر کے گرد چربی میں اضافے یا آسان الفاظ میں توند نکلنے سے صرف شخصیت ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ اس سے دل کو بھی سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جرمنی کے University Medical Center Hamburg-Eppendorf کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ جسمانی وزن چاہے کم ہو یا زیادہ، مگر پیٹ اور کمر کے اردگرد چربی جمع ہونے سے دل کی ساخت میں نقصان دہ تبدیلیاں آتی ہیں۔اس تحقیق میں 46 سے 78 سال کی عمر کے 2244 افراد کو شامل کیا گیا۔ان افراد کے جسمانی وزن کی جانچ پڑتال کی گئی جبکہ توند کی چربی کا جائزہ بھی لیا۔اس کے بعد ایم آر آئی اسکینز سے ان کی دل کی صحت کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ توند نکلنے سے دل کے مسلز کی موٹائی بڑھ جاتی ہے جبکہ دل کے چیمبرز کا حجم گھٹ جاتا ہےتحقیق کے مطابق یہ تبدیلیاں مردوں میں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں، خاص طور پر دل کی دائیں شریان میں، جو پھیپھڑوں کو خون پہنچاتی ہے۔محققین نے بتایا کہ اس سے دل پر تناؤ بڑھتا ہے اور یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ یہ اضافی چربی نظام تنفق اور پھیپھڑوں پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیق میں امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والے عناصر کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی مردوں کی دل کی ساخت میں اس فرق کو دریافت کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ جسمانی وزن سے مردوں کی دل کی صحت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔محققین کے مطابق توند اور دل کی صحت کے درمیان تعلق موجود ہے، چاہے جسمانی وزن جتنا کم یا زیادہ ہو۔