وفاقی وزیر احسن اقبال کی شکاگو میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری و ٹیکنالوجی برادری سے ملاقات؛ پاکستان کی معاشی ترقی اور ‘اڑان پاکستان’ پروگرام میں فعال شراکت کی دعوت
Web Desk
8 July 2026
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے شکاگو میں پاکستانی نژاد امریکی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں، ٹیکنالوجی ماہرین اور مالیاتی شعبے سے وابستہ ممتاز شخصیات کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی معاشی ترقی اور علم پر مبنی معیشت (Knowledge Economy) کی تعمیر میں فعال شراکت داری کی دعوت دی ہے۔
اجلاس میں فارچیون 500 کمپنیوں کے سابق اعلیٰ عہدیداروں، مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے سے وابستہ ممتاز ماہرین اور امریکی ٹیکنالوجی سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں معاشی استحکام کو پائیدار معاشی ترقی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے مشکل مگر ناگزیر معاشی اصلاحات کے ذریعے مہنگائی اور شرحِ سود میں نمایاں کمی کی ہے، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی بحالی کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
‘اڑان پاکستان’ اور فائیو ایز (5Es) فریم ورک وفاقی وزیر نے اجلاس کے شرکاء کو حکومت کے قومی معاشی تبدیلی کے پروگرام “اڑان پاکستان” سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت 2035 تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر اور 2047 تک تین کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ہدف کی بنیاد فائیو ایز (5Es) فریم ورک پر رکھی گئی ہے جس میں درج ذیل شعبے شامل ہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، سیاحت اور معدنیات جیسے ترجیحی شعبوں میں برآمدات کا فروغ, ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ, ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی, توانائی کے شعبے میں اصلاحات ہنرمند افرادی قوت اور تخلیقی صنعتوں کے ذریعے عوام کو بااختیار بنانا۔
احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت پاکستانی نژاد امریکی ماہرینِ تعلیم اور سائنسی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دے رہی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو، الینوائے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف شکاگو اور “امریکہ۔پاکستان نالج کوریڈور” کے تحت جاری منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید تحقیق کے شعبوں میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ماہرین کی خدمات سے استفادہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اپنے دورے کے دوران وفاقی وزیر نے یونیورسٹی آف شکاگو کے مختلف شعبوں کے سربراہان، بشمول پروفیسر مادھو راجن اور پروفیسر کیٹی ہیرنیاک سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں میں عوامی پالیسی، سرکاری شعبے میں اصلاحات، تعلیمی نصاب، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور وفاقی و صوبائی سول سروس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
اسرائیل نے پورے مشرق وسطیٰ میں بدامنی پھیلا رکھی ہے: مسعود پزشکیان
16 August 2026
حج 2027 کی درخواستوں کی وصولی 18 اگست سے شروع ہوگی، وزارت مذہبی امور
16 August 2026
نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی اہلیہ کے دورۂ شام و لبنان اور سیکیورٹی تنازع پر ’غلط فہمی‘ کی وضاحت
16 August 2026
14 اگست کو احتجاج کرنے والے ہم میں سے نہیں: اختیار ولی پی ٹی آئی پر برس پڑے
16 August 2026
امریکا اور پاکستان کےدرمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر
16 August 2026
سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم
16 August 2026
پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر
16 August 2026
وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال
16 August 2026