LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

آرتھرائٹس میں مبتلا ہزاروں افراد کس خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

Web Desk

7 July 2026

ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جوڑوں کے شدید درد (رمیٹیوڈ آرتھرائٹس) میں مبتلا ہزاروں مریض پھیپھڑوں کی ایک خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کی بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ طبی جریدے ‘دی لانسیٹ ریسپائریٹری میڈیسن’ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، رمیٹیوڈ آرتھرائٹس محض جوڑوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ آٹو امیون بیماری پھیپھڑوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر جوشوا سولومن کا کہنا ہے کہ ہر 6 میں سے ایک مریض میں پھیپھڑوں کی خرابی پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ ہر 10 میں سے ایک مریض ‘آر اے-آئی ایل ڈی’ (انٹرسٹیشل لنگ ڈیزیز) کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے پھیپھڑوں میں سوزش اور داغ پڑنے لگتے ہیں اور سانس لینے میں شدید دشواری ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر اس بیماری کی بروقت تشخیص کر لی جائے تو مخصوص ادویات کے ذریعے سوزش کو کم اور پھیپھڑوں میں داغ بننے کے عمل کو سست کر کے اس کا مؤثر علاج ممکن ہے۔