LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

شیگیلا کے خلاف نئی ویکسین کے حوصلہ افزا نتائج

Web Desk

8 July 2026

شیگیلا بیکٹیریا سے ہونے والی آنتوں کی خطرناک بیماری کے خلاف تیار کی جانے والی ایک نئی تجرباتی اورل (زبانی) ویکسین نے فیز ٹو کلینیکل ٹرائلز میں 89 فیصد مؤثر کارکردگی دِکھا کر طبی دنیا میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ معروف برطانوی طبی جریدے “دی لانسیٹ انفیکشیس ڈیزیزز” میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، امریکہ کے دو طبی مراکز میں 18 سے 49 سال کے 73 صحت مند افراد پر اس ویکسین کی آزمائش کی گئی۔ ‘ڈبلیو آر ایس 2’ (WRS2) نامی یہ زندہ لیکن کمزور کی گئی ویکسین شیگیلا سونئی کے خلاف تیار کی گئی ہے، جو دنیا بھر میں کروڑوں افراد میں شدید اسہال اور قے کا باعث بنتی ہے۔ ٹرائل کے دوران ویکسین کی دو خوراکیں لینے والے 34 افراد میں سے صرف 9 فیصد بیمار ہوئے، جبکہ پلیسبو لینے والے 81 فیصد افراد میں بیماری کی تشخیص ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شیگیلا کی بعض اقسام فرسٹ لائن اینٹی بائیوٹکس کے خلاف تیزی سے مزاحمت پیدا کر رہی ہیں اور اس وقت مارکیٹ میں کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں، ایسے میں یہ نتائج ایک بڑی پیشرفت ہیں۔ تحقیق کے سربراہ رابرٹ ڈبلیو فرینک جونیئر کے مطابق، اگلے مرحلے میں خوراک کا تعین کر کے افریقہ جیسے شدید متاثرہ علاقوں میں بچوں پر اس کے بڑے پیمانے پر ٹرائلز کیے جائیں گے۔