LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا

شیگیلا کے خلاف نئی ویکسین کے حوصلہ افزا نتائج

Web Desk

8 July 2026

شیگیلا بیکٹیریا سے ہونے والی آنتوں کی خطرناک بیماری کے خلاف تیار کی جانے والی ایک نئی تجرباتی اورل (زبانی) ویکسین نے فیز ٹو کلینیکل ٹرائلز میں 89 فیصد مؤثر کارکردگی دِکھا کر طبی دنیا میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ معروف برطانوی طبی جریدے “دی لانسیٹ انفیکشیس ڈیزیزز” میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، امریکہ کے دو طبی مراکز میں 18 سے 49 سال کے 73 صحت مند افراد پر اس ویکسین کی آزمائش کی گئی۔ ‘ڈبلیو آر ایس 2’ (WRS2) نامی یہ زندہ لیکن کمزور کی گئی ویکسین شیگیلا سونئی کے خلاف تیار کی گئی ہے، جو دنیا بھر میں کروڑوں افراد میں شدید اسہال اور قے کا باعث بنتی ہے۔ ٹرائل کے دوران ویکسین کی دو خوراکیں لینے والے 34 افراد میں سے صرف 9 فیصد بیمار ہوئے، جبکہ پلیسبو لینے والے 81 فیصد افراد میں بیماری کی تشخیص ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شیگیلا کی بعض اقسام فرسٹ لائن اینٹی بائیوٹکس کے خلاف تیزی سے مزاحمت پیدا کر رہی ہیں اور اس وقت مارکیٹ میں کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں، ایسے میں یہ نتائج ایک بڑی پیشرفت ہیں۔ تحقیق کے سربراہ رابرٹ ڈبلیو فرینک جونیئر کے مطابق، اگلے مرحلے میں خوراک کا تعین کر کے افریقہ جیسے شدید متاثرہ علاقوں میں بچوں پر اس کے بڑے پیمانے پر ٹرائلز کیے جائیں گے۔