LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر اسمبلی میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور پاکستان امریکا اور ایران کو مفاہمتی یادداشت پر واپس لانے کیلئے سرگرم ہے: دفترِ خارجہ پنجاب میں دریاؤں کی صورتحال بہتر، مون سون بارشوں کا الرٹ جاری سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا لاہور ہائیکورٹ: جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھارتی ایئر لائنز کیلئے بڑا دھچکا نیویارک میں ’ٹیکس ورلڈ 2026ء‘ نمائش کا انعقاد، پاکستان کی بھرپور شرکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 3 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق جاپان: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی امریکا کے ایک بار پھر ایران پر حملے، درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی میڈیا امریکی فوج نے ایک بار پھر ایران پر فضائی حملے شروع کر دیے امریکا کا ایران کی بحری ناکہ بندی میں مزید 20 تجارتی جہاز واپس موڑنے کا دعویٰ

شیگیلا کے خلاف نئی ویکسین کے حوصلہ افزا نتائج

Web Desk

8 July 2026

شیگیلا بیکٹیریا سے ہونے والی آنتوں کی خطرناک بیماری کے خلاف تیار کی جانے والی ایک نئی تجرباتی اورل (زبانی) ویکسین نے فیز ٹو کلینیکل ٹرائلز میں 89 فیصد مؤثر کارکردگی دِکھا کر طبی دنیا میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ معروف برطانوی طبی جریدے “دی لانسیٹ انفیکشیس ڈیزیزز” میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، امریکہ کے دو طبی مراکز میں 18 سے 49 سال کے 73 صحت مند افراد پر اس ویکسین کی آزمائش کی گئی۔ ‘ڈبلیو آر ایس 2’ (WRS2) نامی یہ زندہ لیکن کمزور کی گئی ویکسین شیگیلا سونئی کے خلاف تیار کی گئی ہے، جو دنیا بھر میں کروڑوں افراد میں شدید اسہال اور قے کا باعث بنتی ہے۔ ٹرائل کے دوران ویکسین کی دو خوراکیں لینے والے 34 افراد میں سے صرف 9 فیصد بیمار ہوئے، جبکہ پلیسبو لینے والے 81 فیصد افراد میں بیماری کی تشخیص ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شیگیلا کی بعض اقسام فرسٹ لائن اینٹی بائیوٹکس کے خلاف تیزی سے مزاحمت پیدا کر رہی ہیں اور اس وقت مارکیٹ میں کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں، ایسے میں یہ نتائج ایک بڑی پیشرفت ہیں۔ تحقیق کے سربراہ رابرٹ ڈبلیو فرینک جونیئر کے مطابق، اگلے مرحلے میں خوراک کا تعین کر کے افریقہ جیسے شدید متاثرہ علاقوں میں بچوں پر اس کے بڑے پیمانے پر ٹرائلز کیے جائیں گے۔