نمک کے زیادہ استعمال سے جسم پر ممکنہ اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
Web Desk
22 February 2026
نمک کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کا 60 فیصد حصہ کلورائیڈ جبکہ 40 فیصد حصہ سوڈیم پر مشتمل ہوتا ہے۔ قدرتی غذاؤں میں بھی سوڈیم موجود ہوتا ہے اور روزانہ کی معمولی مقدار جسم کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ مسلز اور اعصاب کو فعال رکھتا ہے اور پانی و منرلز کے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، روزانہ 5 گرام (ایک چائے کا چمچ) سے زیادہ نمک کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ زیادہ نمک کے فوری اثرات میں پیٹ پھولنا، ہائی بلڈ پریشر، ہاتھ یا پیر سوج جانا، زیادہ پیاس لگنا، باتھ روم کے زیادہ چکر، جسمانی وزن میں اضافہ، نیند میں خلل، کمزوری اور نظام ہاضمہ کی خرابی شامل ہیں۔
نمک کی زیادہ مقدار جسم میں پانی جمع کرتی ہے، جس سے پیٹ پھولتا ہے اور گردوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اضافی سوڈیم خون کے خلیات سے پانی کھینچتا ہے، جس سے کمزوری اور ڈی ہائیڈریشن کے خطرات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ نیند متاثر ہو سکتی ہے اور متلی یا ہیضے جیسے نظام ہاضمہ کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
طویل المعیاد اثرات میں دل کے پٹھوں کا حجم بڑھنا، گردے کے امراض، پتھری، ہڈیوں کی کمزوری، فالج اور بار بار سردرد شامل ہیں۔ اس لیے صحت مند زندگی کے لیے روزانہ نمک کی مقدار کو محدود اور متوازن رکھنا ضروری ہے۔
متعلقہ عنوانات
مصنوعی پلکیں بینائی کی دشمن
20 September 2026
جنرل ہسپتال سے جعلی ڈاکٹر گرفتار، مقدمہ درج کر لیا گیا
19 September 2026
پی ایم ڈی سی نے پانچ سالہ بی ڈی ایس پروگرام کا نفاذ موخر کردیا
19 September 2026
نئے انتظامی یونٹس بننے سے کوئی قتل و غارت نہیں ہوگی، مصطفیٰ کمال
19 September 2026
جنگلات کی آگ کا دھواں دیگر فضائی آلودگی سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے: تحقیق
19 September 2026
موسیقی ذہنی دباؤ سے بحالی میں مددگار قرار، تحقیق
18 September 2026
مصنوعی مٹھاس سے فالج کا خطرہ، نئی تحقیق میں دماغی خلیوں کے نقصان کا خدشہ
18 September 2026
پاکستان میں ہیگزویلنٹ ویکسین متعارف کروانے کی منظوری دے دی گئی
18 September 2026