LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنا ختم نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمان

ملک میں پہلی بار مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کیلئے’ ویکسین فنڈ قائم‘ کرنے کا فیصلہ

Web Desk

4 January 2026

لک میں پہلی بار مقامی سطح پر ادویات اور ویکسین کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے ویکسین فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ مقامی ادویات تیاری پالیسی کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ویکسین کی درآمد پر انحصار کم کرنا اور قومی سطح پر پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

پالیسی دستاویز کے مطابق آئندہ چند برسوں میں ویکسین کا درآمدی بل ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے، جبکہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری سے سالانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی بچت ممکن ہو سکے گی۔ اسی تناظر میں پہلی بار ریاست کی ملکیت میں ویکسین فنڈ قائم کیا جائے گا، جو تجارتی اصولوں کے تحت پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جائے گا۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پالیسی کے تحت ایک سے دو سال کے لیے قلیل المدتی ایکشن پلان بھی شامل کیا گیا ہے۔ ویکسین فنڈ کو ویکسین کی تیاری سے لے کر کلینیکل ٹرائلز تک تمام مراحل میں استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ادویات کے شعبے میں سرمایہ کاری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھی اسی فنڈ سے معاونت فراہم کی جائے گی۔

پالیسی میں ای پی آئی ویکسین کی تیاری کے لیے درآمدی مشینری پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز شامل ہے۔ اسی طرح ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی استعداد بڑھانے اور نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولوجیکلز کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ بھی پالیسی کا حصہ ہے۔

دستاویز کے مطابق ویکسین فنڈ مارکیٹ میں مناسب سرمایہ کی دستیابی یقینی بنانے کا ایک اہم مالیاتی ذریعہ ہوگا، جو ملک کو ویکسین کی درآمد سے نکال کر برآمدی صلاحیت رکھنے والے مقامی مینوفیکچرنگ نظام کی جانب لے جائے گا۔

مزید برآں، ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کو سپر ٹیکس میں 10 سال تک چھوٹ دینے، کارپوریٹ ٹیکس اور انکم ٹیکس میں ریلیف فراہم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ پالیسی کے تحت ویکسین مینوفیکچررز کو برآمدی آمدن کا 35 فیصد ڈالر میں رکھنے کی اجازت دینے کی تجویز شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری نہ صرف زرِ مبادلہ کی بچت کا ذریعہ بنے گی بلکہ صحت کے شعبے میں خود کفالت اور برآمدات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔