LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی پڑوسی ممالک ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں: پزشکیان مصطفیٰ کمال جس دن مناظرے کا کہیں، میں تیار ہوں: مرتضیٰ وہاب عمان مذاکرات کا کسی صورت یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی: عراقچی حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ کے بھائی کا قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کیلیے دوسرا خط نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے: واشنگٹن پوسٹ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں سے 76 ہزار افراد بے گھر روسی حملوں میں شدت، رواں سال انتہائی مشکل موسم سرما کا سامنا ہو سکتا ہے: یوکرینی حکام ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال

ملک میں پہلی بار مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کیلئے’ ویکسین فنڈ قائم‘ کرنے کا فیصلہ

Web Desk

4 January 2026

لک میں پہلی بار مقامی سطح پر ادویات اور ویکسین کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے ویکسین فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ مقامی ادویات تیاری پالیسی کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ویکسین کی درآمد پر انحصار کم کرنا اور قومی سطح پر پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

پالیسی دستاویز کے مطابق آئندہ چند برسوں میں ویکسین کا درآمدی بل ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے، جبکہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری سے سالانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی بچت ممکن ہو سکے گی۔ اسی تناظر میں پہلی بار ریاست کی ملکیت میں ویکسین فنڈ قائم کیا جائے گا، جو تجارتی اصولوں کے تحت پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جائے گا۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پالیسی کے تحت ایک سے دو سال کے لیے قلیل المدتی ایکشن پلان بھی شامل کیا گیا ہے۔ ویکسین فنڈ کو ویکسین کی تیاری سے لے کر کلینیکل ٹرائلز تک تمام مراحل میں استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ادویات کے شعبے میں سرمایہ کاری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھی اسی فنڈ سے معاونت فراہم کی جائے گی۔

پالیسی میں ای پی آئی ویکسین کی تیاری کے لیے درآمدی مشینری پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز شامل ہے۔ اسی طرح ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی استعداد بڑھانے اور نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولوجیکلز کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ بھی پالیسی کا حصہ ہے۔

دستاویز کے مطابق ویکسین فنڈ مارکیٹ میں مناسب سرمایہ کی دستیابی یقینی بنانے کا ایک اہم مالیاتی ذریعہ ہوگا، جو ملک کو ویکسین کی درآمد سے نکال کر برآمدی صلاحیت رکھنے والے مقامی مینوفیکچرنگ نظام کی جانب لے جائے گا۔

مزید برآں، ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کو سپر ٹیکس میں 10 سال تک چھوٹ دینے، کارپوریٹ ٹیکس اور انکم ٹیکس میں ریلیف فراہم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ پالیسی کے تحت ویکسین مینوفیکچررز کو برآمدی آمدن کا 35 فیصد ڈالر میں رکھنے کی اجازت دینے کی تجویز شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری نہ صرف زرِ مبادلہ کی بچت کا ذریعہ بنے گی بلکہ صحت کے شعبے میں خود کفالت اور برآمدات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔