LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان صدر مملکت کا پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی خدمات کا اعتراف امریکا کا ایران کیساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کیخلاف بھی سخت اقدامات کا اعلان بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام بنگلادیش کے نئے صدر منتخب پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی، اسلام آباد کیلئے کال دوں گا: حافظ نعیم الرحمان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا بلاول بھٹو سے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو بیرونی سرمایہ کاری لانے کا مشن، صوبائی وزیر چوہدری شافع کینیڈا پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی، فیصلے کیخلاف درخواست دوبارہ دائر کر رہے ہیں: رانا ثنا نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے

ملک میں پہلی بار مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کیلئے’ ویکسین فنڈ قائم‘ کرنے کا فیصلہ

Web Desk

4 January 2026

لک میں پہلی بار مقامی سطح پر ادویات اور ویکسین کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے ویکسین فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ مقامی ادویات تیاری پالیسی کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ویکسین کی درآمد پر انحصار کم کرنا اور قومی سطح پر پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

پالیسی دستاویز کے مطابق آئندہ چند برسوں میں ویکسین کا درآمدی بل ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے، جبکہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری سے سالانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی بچت ممکن ہو سکے گی۔ اسی تناظر میں پہلی بار ریاست کی ملکیت میں ویکسین فنڈ قائم کیا جائے گا، جو تجارتی اصولوں کے تحت پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جائے گا۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پالیسی کے تحت ایک سے دو سال کے لیے قلیل المدتی ایکشن پلان بھی شامل کیا گیا ہے۔ ویکسین فنڈ کو ویکسین کی تیاری سے لے کر کلینیکل ٹرائلز تک تمام مراحل میں استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ادویات کے شعبے میں سرمایہ کاری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھی اسی فنڈ سے معاونت فراہم کی جائے گی۔

پالیسی میں ای پی آئی ویکسین کی تیاری کے لیے درآمدی مشینری پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز شامل ہے۔ اسی طرح ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی استعداد بڑھانے اور نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولوجیکلز کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ بھی پالیسی کا حصہ ہے۔

دستاویز کے مطابق ویکسین فنڈ مارکیٹ میں مناسب سرمایہ کی دستیابی یقینی بنانے کا ایک اہم مالیاتی ذریعہ ہوگا، جو ملک کو ویکسین کی درآمد سے نکال کر برآمدی صلاحیت رکھنے والے مقامی مینوفیکچرنگ نظام کی جانب لے جائے گا۔

مزید برآں، ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کو سپر ٹیکس میں 10 سال تک چھوٹ دینے، کارپوریٹ ٹیکس اور انکم ٹیکس میں ریلیف فراہم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ پالیسی کے تحت ویکسین مینوفیکچررز کو برآمدی آمدن کا 35 فیصد ڈالر میں رکھنے کی اجازت دینے کی تجویز شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری نہ صرف زرِ مبادلہ کی بچت کا ذریعہ بنے گی بلکہ صحت کے شعبے میں خود کفالت اور برآمدات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔