LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خطے کی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری رکھیں: وزیراعظم محسن نقوی کا بوئنگ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پی آئی اے کیلئے 16 نئے طیاروں پر پیش رفت اسحاق ڈار 2 روزہ سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچ گئے پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستان نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی سہولتی اراضی کا استعمال تبدیل کرنے پر پابندی ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم

بھارت اور اسرائیل سے کتب کی درآمد پر پابندی برقرار، وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کر دیا

Web Desk

17 April 2026

وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں بھارت اور اسرائیل سے کتب سمیت ہر قسم کی اشیاء کی درآمد پر پابندی کے حکومتی نوٹیفکیشن کو قانونی طور پر درست قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو دی گئی تمام ہدایات اور نظرثانی کے احکامات کو کالعدم کر دیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی جانب سے جاری کردہ اکثریتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات خالصتاً ایگزیکٹو (حکومت) کا صوابدیدی اختیار ہیں، اور عدلیہ ان حساس معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ حکومت کا فیصلہ ہے کہ وہ کن ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنا چاہتی ہے، اور اگر عدلیہ اس حوالے سے احکامات جاری کرے گی تو یہ اختیارات سے تجاوز ہوگا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں آرٹیکل 9 کے تحت ‘پڑھنے کے حق’ کو بنیادی انسانی حق تو تسلیم کیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ یہ حق ملکی قوانین اور خارجہ پالیسی کے تابع ہے۔ عدالت کے مطابق، اگرچہ بھارت سے قانون کی کتب سستی ملتی ہیں، لیکن ریاست کی خارجہ پالیسی اور 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت سے تجارت پر عائد پابندی برقرار رہے گی۔ لاہور ہائیکورٹ نے قبل ازیں علم کی فراہمی کو بنیاد بنا کر حکومت کو نرمی برتنے کا حکم دیا تھا، جسے وفاقی آئینی عدالت نے یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ ہائیکورٹ کے پاس اپنے طور پر ایسی کارروائی کا اختیار نہیں تھا۔