LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب نے اپنے اخراجات کو بڑی حد تک محدود کیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا:مریم اورنگزیب سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل، پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ بلوچستان گرینڈ الائنس کا مطالبات کے حق میں اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کا مقام تبدیل ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا، ابراہیم عزیزی

نیند کیلئے استعمال کیا جانیوالا عام سپلیمنٹ ہارٹ فیلیئر کا سبب قرار

Web Desk

13 November 2025

میلاٹونِنس ایک ہارمون ہے جو جسم ہمارے نیند کے سائیکل کو قابو میں رکھنے کے لیے بناتا ہے اور اس کا مصنوعی ورژن عموماً بے خوابی اور جیٹ لیگ سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
چونکہ اوور دی کاؤنٹر ادویات کو ریگولیٹ نہیں کیا جاتا اس لیے میلاٹونن کے مختلف برانڈز اس کو مختلف طاقت کے ساتھ فروخت کر سکتے ہیں جس کے جسم پر مختلف طویل مدتی اثرات ہو سکتے ہیں۔

تحقیق میں معلوم ہوا کہ وہ مریض جنہوں نے 12 ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک میلاٹونِن کا استعمال کیا تھا ان میں یہ دوا نہ استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں ہارٹ فیلیئر کے امکانات تقریباً 90 فی صد زیادہ تھے۔
ان خطرات کو سمجھنے کے لیے محققین نے پانچ برس تک بے خوابی میں مبتلا 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد (جنہوں نے کم از کم ایک برس تک میلاٹونِن کا استعمال کیا تھا) کے صحت کے ریکارڈز کا جائزہ لیا اور اس کا موازنہ ان افراد کے ڈیٹا کے ساتھ کیا جو بے خوابی کے باجود میلاٹونِن نہیں لیتے تھے۔