سائنس دان معدوم پرندہ دنیا میں واپس لانے کے قریب
Web Desk
20 May 2026
ٹیکساس: سائنس اور بائیو ٹیکنالوجی کی دنیا سے ایک حیرت انگیز اور سنسنی خیز خبر سامنے آئی ہے۔ اربوں ڈالر مالیت رکھنے والی مشہور ڈی-ایکسٹنکشن (معدوم جانداروں کو واپس لانے والی) کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے اور صدیوں پہلے ناپید ہو جانے والے دیوہیکل پرندے ‘جائنٹ موآ’ (Giant Moa) کو دوبارہ زمین پر لانے کے مشن میں ایک اور انتہائی اہم مرحلے کے قریب پہنچ گئی ہے۔
امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی بائیو ٹیک کمپنی ‘کولوسل بائیو سائنسز’ (Colossal Biosciences) کے حالیہ اعلان کے مطابق، انہوں نے ایک ایسا جدید مصنوعی انڈا (Artificial Egg) تیار کر لیا ہے جو جائنٹ موآ کی نسل کو واپس لانے کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ واضح رہے کہ یہ دیوہیکل پرندہ تقریباً 500 سال قبل دنیا سے ناپید ہو گیا تھا۔
مصنوعی انڈے سے 26 چوزوں کی کامیاب پیدائش
کمپنی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس نئے ڈیزائن کردہ مصنوعی انڈے کے ذریعے کامیابی کے ساتھ 26 چوزے نکال لیے ہیں۔ اس انڈے کو سائنسی بنیادوں پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ اسے مستقبل میں ضرورت کے مطابق بڑے پیمانے پر اور مختلف سائزز میں باآسانی تیار کیا جا سکے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی بائیو ٹیک کمپنی ہے جو اس سے قبل قدیم دور کے خوفناک بھیڑیے ‘ڈائر وولف’ (Dair Wolf) کو بھی کامیابی سے دوبارہ زندہ کرنے کا سنسنی خیز دعویٰ کر چکی ہے۔ یہ موجودہ پراجیکٹ نیوزی لینڈ کے ‘نگائی ٹاہو ریسرچ’ اور ‘کینٹربری میوزیم’ کے باہمی اشتراک و تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔
سائنسی پیشرفت یا اخلاقی تنازع؟
جہاں اس پیشرفت کو سائنسدان ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، وہی کولوسل بائیو سائنسز کے یہ ‘ڈی-ایکسٹنکشن منصوبے’ مسلسل شدید عالمی تنازعات کا شکار بھی ہیں۔ ناقدین اور اخلاقیات کے ماہرین اس پر کئی سوالات اٹھا رہے ہیں:
کیا صدیوں پہلے فطری یا انسانی وجوہات کی بنا پر ناپید ہو جانے والے جانداروں کو حیاتیاتی طور پر واپس لانا اخلاقی اور مذہبی طور پر درست ہے؟
کیا مصنوعی طریقے اور لیبارٹری کے ماحول میں تیار کردہ ان جانداروں کو واقعی “دوبارہ زندہ کرنا” کہا جا سکتا ہے یا یہ محض ایک سائنسی کلوننگ ہے؟
متعلقہ عنوانات
گوگل میپس میں جلد کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرانے کا امکان
6 July 2026
ٹیلی کام بل سے کسی کی ذاتی زمین اور جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں ہوگا: شزا فاطمہ
6 July 2026
یوٹیوب نے تصاویر پر مبنی انقلابی فیچر متعارف کروا دیا
5 July 2026
مشہور کمپنی کا اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے 551 فلمیں ہٹانے کا اعلان
4 July 2026
یوٹیوب نے شارٹس فارمیٹ میں نئے فیچر متعارف کرا دیے
3 July 2026
پاکستان میں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی سہولیات میں نمایاں اضافہ، عالمی درجہ بندی بھی بہتر
3 July 2026
انٹرنیٹ کو بھی بنیادی سروس قرار دینے پر غور، وزارت آئی ٹی کا قانونی جائزہ مکمل
3 July 2026
زمین کو سیارچے سے بچانے کے لیے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی تجویز
2 July 2026