LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ضمنی انتخاب: پنجاب کے دونوں حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کامیاب اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد

سائنس دان معدوم پرندہ دنیا میں واپس لانے کے قریب

Web Desk

20 May 2026

ٹیکساس: سائنس اور بائیو ٹیکنالوجی کی دنیا سے ایک حیرت انگیز اور سنسنی خیز خبر سامنے آئی ہے۔ اربوں ڈالر مالیت رکھنے والی مشہور ڈی-ایکسٹنکشن (معدوم جانداروں کو واپس لانے والی) کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے اور صدیوں پہلے ناپید ہو جانے والے دیوہیکل پرندے ‘جائنٹ موآ’ (Giant Moa) کو دوبارہ زمین پر لانے کے مشن میں ایک اور انتہائی اہم مرحلے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی بائیو ٹیک کمپنی ‘کولوسل بائیو سائنسز’ (Colossal Biosciences) کے حالیہ اعلان کے مطابق، انہوں نے ایک ایسا جدید مصنوعی انڈا (Artificial Egg) تیار کر لیا ہے جو جائنٹ موآ کی نسل کو واپس لانے کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ واضح رہے کہ یہ دیوہیکل پرندہ تقریباً 500 سال قبل دنیا سے ناپید ہو گیا تھا۔

مصنوعی انڈے سے 26 چوزوں کی کامیاب پیدائش
کمپنی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس نئے ڈیزائن کردہ مصنوعی انڈے کے ذریعے کامیابی کے ساتھ 26 چوزے نکال لیے ہیں۔ اس انڈے کو سائنسی بنیادوں پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ اسے مستقبل میں ضرورت کے مطابق بڑے پیمانے پر اور مختلف سائزز میں باآسانی تیار کیا جا سکے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی بائیو ٹیک کمپنی ہے جو اس سے قبل قدیم دور کے خوفناک بھیڑیے ‘ڈائر وولف’ (Dair Wolf) کو بھی کامیابی سے دوبارہ زندہ کرنے کا سنسنی خیز دعویٰ کر چکی ہے۔ یہ موجودہ پراجیکٹ نیوزی لینڈ کے ‘نگائی ٹاہو ریسرچ’ اور ‘کینٹربری میوزیم’ کے باہمی اشتراک و تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔

سائنسی پیشرفت یا اخلاقی تنازع؟
جہاں اس پیشرفت کو سائنسدان ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، وہی کولوسل بائیو سائنسز کے یہ ‘ڈی-ایکسٹنکشن منصوبے’ مسلسل شدید عالمی تنازعات کا شکار بھی ہیں۔ ناقدین اور اخلاقیات کے ماہرین اس پر کئی سوالات اٹھا رہے ہیں:

کیا صدیوں پہلے فطری یا انسانی وجوہات کی بنا پر ناپید ہو جانے والے جانداروں کو حیاتیاتی طور پر واپس لانا اخلاقی اور مذہبی طور پر درست ہے؟

کیا مصنوعی طریقے اور لیبارٹری کے ماحول میں تیار کردہ ان جانداروں کو واقعی “دوبارہ زندہ کرنا” کہا جا سکتا ہے یا یہ محض ایک سائنسی کلوننگ ہے؟