LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا، حتمی فیصلے متوقع جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ پاکستان کا غزہ میں عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ اب تحمل کی پالیسی مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی، شہزادہ ترکی الفیصل اسلام آباد میں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سپیکر پنجاب اسمبلی سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے، چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی: محسن نقوی یورپی ممالک بھاری مقدار میں ڈیزل جاری کرنے پر تیار ہوگئے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ دوران پرواز کپتان پر حملہ کرنے والا شریک پائلٹ انتہا پسند تھا: امریکی اخبارکا دعویٰ محسن رضائی نے ٹرمپ کے ایران کیخلاف جنگ میں فتح کے دعوؤں کو مسترد کر دیا پاسداران انقلاب کا چابہار بندرگاہ کے قریب مبینہ دہشت گرد سیل تباہ کرنے کا دعویٰ حماس کی مالی معاونت کا الزام: امریکا نے 5 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں جی سیون ممالک نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیلئے اتفاق کر لیا: فرانسیسی صدر

سائنس دان معدوم پرندہ دنیا میں واپس لانے کے قریب

Web Desk

20 May 2026

ٹیکساس: سائنس اور بائیو ٹیکنالوجی کی دنیا سے ایک حیرت انگیز اور سنسنی خیز خبر سامنے آئی ہے۔ اربوں ڈالر مالیت رکھنے والی مشہور ڈی-ایکسٹنکشن (معدوم جانداروں کو واپس لانے والی) کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے اور صدیوں پہلے ناپید ہو جانے والے دیوہیکل پرندے ‘جائنٹ موآ’ (Giant Moa) کو دوبارہ زمین پر لانے کے مشن میں ایک اور انتہائی اہم مرحلے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی بائیو ٹیک کمپنی ‘کولوسل بائیو سائنسز’ (Colossal Biosciences) کے حالیہ اعلان کے مطابق، انہوں نے ایک ایسا جدید مصنوعی انڈا (Artificial Egg) تیار کر لیا ہے جو جائنٹ موآ کی نسل کو واپس لانے کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ واضح رہے کہ یہ دیوہیکل پرندہ تقریباً 500 سال قبل دنیا سے ناپید ہو گیا تھا۔

مصنوعی انڈے سے 26 چوزوں کی کامیاب پیدائش
کمپنی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس نئے ڈیزائن کردہ مصنوعی انڈے کے ذریعے کامیابی کے ساتھ 26 چوزے نکال لیے ہیں۔ اس انڈے کو سائنسی بنیادوں پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ اسے مستقبل میں ضرورت کے مطابق بڑے پیمانے پر اور مختلف سائزز میں باآسانی تیار کیا جا سکے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی بائیو ٹیک کمپنی ہے جو اس سے قبل قدیم دور کے خوفناک بھیڑیے ‘ڈائر وولف’ (Dair Wolf) کو بھی کامیابی سے دوبارہ زندہ کرنے کا سنسنی خیز دعویٰ کر چکی ہے۔ یہ موجودہ پراجیکٹ نیوزی لینڈ کے ‘نگائی ٹاہو ریسرچ’ اور ‘کینٹربری میوزیم’ کے باہمی اشتراک و تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔

سائنسی پیشرفت یا اخلاقی تنازع؟
جہاں اس پیشرفت کو سائنسدان ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، وہی کولوسل بائیو سائنسز کے یہ ‘ڈی-ایکسٹنکشن منصوبے’ مسلسل شدید عالمی تنازعات کا شکار بھی ہیں۔ ناقدین اور اخلاقیات کے ماہرین اس پر کئی سوالات اٹھا رہے ہیں:

کیا صدیوں پہلے فطری یا انسانی وجوہات کی بنا پر ناپید ہو جانے والے جانداروں کو حیاتیاتی طور پر واپس لانا اخلاقی اور مذہبی طور پر درست ہے؟

کیا مصنوعی طریقے اور لیبارٹری کے ماحول میں تیار کردہ ان جانداروں کو واقعی “دوبارہ زندہ کرنا” کہا جا سکتا ہے یا یہ محض ایک سائنسی کلوننگ ہے؟