LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمرانٹرن شپ 2026 میں طلبہ و طالبات کیساتھ خصوصی نشست نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے CNN کے تازہ ترین پول میں ڈیموکریٹس کی تمام اعلیٰ قیادت کو پیچھے چھوڑ دیا بروڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے نامور کوہ پیما نرمل پرجا لاپتا ہونے کا خدشہ ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو پاکستان کے 2 مزید کرکٹرز کا لنکا پریمئیر لیگ میں معاہدہ، شاہین شاہ آفریدی دستبردار پی این فلیٹ کلب سکواش: عاصم، نور، حمزہ اور ناصر کوارٹر فائنل میں بابر اعظم کی باکسر فاطمہ زہرا کو کانسی کا تمغہ جیتنے پر مبارکباد ماسکو: معروف ریستوران میں خودکش دھماکا، 3 افراد ہلاک، 21 زخمی اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کئی ارکان شہید کرنے کا دعویٰ ٹرمپ کا ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کرنے کا اعلان اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کا الخلیل کے قریب فلسطینیوں پر ایک اور حملہ غزہ سے انخلا پر اسرائیل میں سیاسی اختلافات، نیتن یاہو دباؤ کا شکار دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری، مزید 7 فلسطینی شہید سعودی ولی عہد کا ایران پر ممکنہ بڑے حملوں کے امریکی منصوبے پر اظہار تشویش عراقی ملیشیا گروپوں کی اردن پر حملے کی منصوبہ بندی، اردن کی جوابی کارروائی کی وارننگ

چینی شہری نے 100 دن تک 100 کلو میٹر دوڑ کر عالمی ریکارڈ اپنے نام کرلیا

Web Desk

10 April 2026

چین سے تعلق رکھنے والے ہوانگ زینگ لونگ، جو ‘لانگ شاؤ’ کے نام سے مشہور ہیں، نے انسانی ہمت اور استقامت کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے مسلسل 100 دن تک روزانہ 100 کلومیٹر دوڑنے کا حیران کن عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، انہوں نے چین کے شہر فوشان میں 6 دسمبر 2025 سے 15 مارچ 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 10 ہزار کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کیا۔ اس غیر معمولی مہم کے دوران انہوں نے ثابت کر دکھایا کہ پختہ ارادہ ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتا ہے۔

ہوانگ زینگ لونگ کے اس سفر کا آغاز عالمی وبا کورونا کے دور میں ہوا، جب انہوں نے دوڑنے کی باقاعدہ تیاری شروع کی اور اپنا ذاتی کاروبار بند کر کے پوری توجہ اس مشن پر مرکوز کر دی۔ انہوں نے اس چیلنج سے قبل پورے ایک سال (365 دن) تک سخت مشق کی تاکہ وہ روزانہ 100 کلومیٹر کی جسمانی مشقت برداشت کر سکیں۔ اپنی کامیابی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ حاصل کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے، خاص طور پر اس لیے کہ بہت سے لوگ اسے انسانی صلاحیت سے باہر اور ناممکن قرار دے رہے تھے۔

اس ریکارڈ ساز دوڑ کے دوران ہوانگ زینگ لونگ کی صحت اور فٹنس کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ماہر غذائیت اور پیشہ ور طبی ٹیم ہر وقت ان کے ساتھ موجود تھی، جو ان کی خوراک اور جسمانی حالت کی مسلسل نگرانی کرتی رہی۔ ان کے اس کارنامے نے دنیا بھر کے ایتھلیٹس اور فٹنس کے دلدادہ افراد کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے اور اسے عالمی سطح پر الٹرا میراتھون کی تاریخ کا ایک روشن باب قرار دیا جا رہا ہے۔