LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران سے معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں، اچھی ملاقاتیں ہوئیں، ٹرمپ ایران کو 3 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا ابتدائی معاہدہ طے پا گیا، عرب میڈیا کادعویٰ بارشیں ہی بارشیں، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا پنجاب کے مختلف اضلاع کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ ہے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبرپختونخوا میں سیلاب کی تباہ کاریاں، آسمانی بجلی گرنے سے 2 بچے جاں بحق،مدرسے کی 15 طالبات زخمی کالام کی سیف اللہ جھیل میں کشتی الٹ گئی، 5 افراد جاں بحق، 3 زخمی فرانس میں صدارتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان، پہلا مرحلہ 18 اپریل اور دوسرا 2 مئی 2027 کو ہوگا صدر آصف علی زرداری سے وزرائے اعلیٰ سندھ اور بلوچستان کی کراچی میں اہم ملاقات ممکنہ سیلابی صورتحال اور خطرات سے بچاؤ کے لیےاقدامات جامع روڈ میپ کے تحت ترتیب دیے جائیں۔وزیراعظم پاکستان پیپلز پارٹی کو بڑا سیاسی جھٹکا، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ نواز شریف کا 14 بچوں کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس، مریم نواز شفاف انکوائری کے بعد مجرمان کو سزا دلوائیں گی ٹیوشن سنٹرسانحہ میں بچ جانیوالی خاتون ٹیچر کا اسپتال سے پہلا بیان آگیا اداکارہ فضا علی کو برطانوی پارلیمنٹ میں خصوصی اعزاز حاصل پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی سے متعلق بھارتی بیان مسترد کر دیا پی ٹی آئی نے بہت اچھا بجٹ پیش کیا، صرف میرٹ پر کام ہو رہا ہے: بیرسٹر گوہر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر عام تعطیل اور یومِ سوگ کا اعلان

چین: سمندری پانی پینے کے قابل بنانے کے لیے ٹیکنالوجی میں اہم پیشرفت

Web Desk

1 July 2026

چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے محققین نے شمسی توانائی کی مدد سے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کی ٹیکنالوجی میں ایک انقلابی پیشرفت حاصل کی ہے، جس سے مستقبل میں صاف پانی کی پیداوار کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے ایک نیا تھری ڈی (3D) اسٹرکچر تیار کیا ہے، جس میں مضبوطی سے جڑی پولیمر زنجیریں اور کھوکھلے خول نما ڈھانچے شامل ہیں۔ یہ ڈھانچہ سورج کی حرارت سے پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے کے عمل کو روایتی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں 8.5 گنا زیادہ تیز بنا دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ ڈی سیلینیشن ٹیکنالوجی فوسل فیول پر انحصار کے باعث مہنگی اور دور دراز علاقوں کے لیے مشکل ہے، تاہم یہ نئی سستی شمسی ایجاد مستقبل میں پانی کی عالمی قلت پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔