چین: سمندری پانی پینے کے قابل بنانے کے لیے ٹیکنالوجی میں اہم پیشرفت
Web Desk
1 July 2026
چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے محققین نے شمسی توانائی کی مدد سے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کی ٹیکنالوجی میں ایک انقلابی پیشرفت حاصل کی ہے، جس سے مستقبل میں صاف پانی کی پیداوار کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے ایک نیا تھری ڈی (3D) اسٹرکچر تیار کیا ہے، جس میں مضبوطی سے جڑی پولیمر زنجیریں اور کھوکھلے خول نما ڈھانچے شامل ہیں۔ یہ ڈھانچہ سورج کی حرارت سے پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے کے عمل کو روایتی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں 8.5 گنا زیادہ تیز بنا دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ ڈی سیلینیشن ٹیکنالوجی فوسل فیول پر انحصار کے باعث مہنگی اور دور دراز علاقوں کے لیے مشکل ہے، تاہم یہ نئی سستی شمسی ایجاد مستقبل میں پانی کی عالمی قلت پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026