LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جسے مردِ آہن بنا کر پیش کیا گیا، آج اسی کی جماعت ہسپتال منتقلی کی فریاد کر رہی: وزیر دفاع آن لائن فراڈ کیس: 284 غیر ملکیوں کی حراست کیلئے نجی پلازہ دوبارہ سب جیل قرار حکومت اور اپوزیشن میں معقول دوریاں ہونی چاہئیں، مخالفت برائے مخالفت نہیں: مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم

ٹیوشن سنٹرسانحہ میں بچ جانیوالی خاتون ٹیچر کا اسپتال سے پہلا بیان آگیا

Web Desk

1 July 2026

صوبائی دارالحکومت کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے دلخراش واقعے کا مقدمہ درج کر کے مالک مکان سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دوسری جانب لاہور جنرل ہسپتال میں زیرِ علاج متاثرہ خاتون ٹیچر انیلا کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے۔

ہسپتال میں زیرِ علاج خاتون ٹیچر انیلا نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ خراب مالی حالات کے باعث گزشتہ دو سال سے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی ہیں جبکہ ان کے شوہر منڈی کے پاس ریڑھی لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیوشن میں مجموعی طور پر 30 سے 35 بچے آتے ہیں تاہم گزشتہ روز 20 سے 22 بچے موجود تھے۔خاتون ٹیچر کے مطابق بارش کی وجہ سے چھت ٹپکتی تھی جس کے باعث وہاں مرمت کا کام شروع کیا گیا تھا، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ چھت گر جائے گی۔ یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔ میری اپنی بیٹی کی حالت اب بہتر ہے اور وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہو چکی ہے لیکن میں ابھی تک اس سے مل نہیں پائی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق خاتون ٹیچر کی حالت اب خطرے سے باہر ہے اور انہیں ایک دو روز میں ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ بچوں کے والدین کی تکلیف کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، جبکہ وزیر تعلیم پنجاب نے معصوم بچوں کی ہلاکت کو ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔

واقعے کا مقدمہ انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق چھت پر جاری مرمتی کام اور غفلت کے باعث یہ جانی نقصان ہوا کیونکہ چھت زیادہ وزن ہونے کی وجہ سے گری۔ اس افسوسناک حادثے میں 14 بچے جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے تھے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ مکان مالک سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور تفتیش مکمل ہونے پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔