LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

جاپان فراڈ سے بچاؤ کیلئے ورچوئل پولیس افسر متعارف

Web Desk

30 June 2026

جاپان نے ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے آن لائن فراڈ اور سائبر دھوکا دہی کی لہر کے خلاف اپنی قومی مہم کے تحت ایک جدید ترین قدم اٹھاتے ہوئے ’اے آئی کو‘ (AIKO) نامی مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مبنی دنیا کی پہلی ورچوئل پولیس افسر کو میدان میں اتار دیا ہے۔

اوساکا پریفیکچرل پولیس (Osaka Prefectural Police) کی جانب سے متعارف کرائی گئی یہ ڈیجیٹل افسر ’اے آئی کو‘ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ‘یوٹیوب’ پر ایک نوجوان جاپانی خاتون کی شکل اور آواز میں نمودار ہوتی ہے اور عوام کو مختلف قسم کے فراڈ سے بچاؤ کے طریقے اور سیکیورٹی گائیڈ لائنز فراہم کرتی ہے۔ اپنی معلوماتی ویڈیوز میں وہ شہریوں کو سختی سے خبردار کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص ویڈیو کال پر خود کو پولیس افسر ظاہر کر کے پیسوں یا معلومات کا تقاضا کرے، تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ کوئی آن لائن دھوکا باز (اسکیمر) ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ورچوئل افسر کے نام یعنی ’اے آئی کو‘ میں ’اے آئی‘ سے مراد آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہے، جبکہ ’کو‘ (Ko) جاپانی ثقافت میں خواتین کے ناموں کے آخر میں استعمال ہونے والا ایک انتہائی عام اور روایتی لاحقہ ہے۔ یہ ورچوئل پولیس افسر مارکیٹ میں ہونے والی حقیقی فراڈ کالز اور دھوکا بازوں کی گفتگوؤں کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کی گئی ویڈیوز کے ذریعے مہم چلاتی ہے، تاکہ عوام کو لائیو دکھایا جا سکے کہ مجرم کس طرح معصوم لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور کن نشانیوں کو دیکھ کر فراڈ کی بروقت نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

جاپانی حکام کے مطابق، اے آئی کو کا آغاز ایک ایسے حساس وقت میں کیا گیا ہے جب جاپان میں گزشتہ سال کے دوران آن لائن سرمایہ کاری، رومانوی تعلقات (Romance Scams) اور جعلی پولیس افسران یا مشہور شخصیات کے روپ میں ہونے والے فراڈ کے باعث شہریوں کو مجموعی طور پر دو ارب ڈالر سے زائد کا خطیر مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پولیس کو امید ہے کہ اس اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہریوں میں آگاہی بڑھے گی اور سائبر کرائمز کی شرح میں نمایاں کمی آئے گی۔