LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ٹرمپ کیساتھ اچھے تعلقات، یوکرین تنازع حل کرنے کیلئے کوششوں پر شکرگزار ہیں: صدر پوتن کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز کی کارروائی، 60 لاکھ روپے کا سامان برآمد ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ستمبر میں مہنگائی 1.27 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 10.26 فیصد ریکارڈ فیول سبسڈی سکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید، وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کو سراہ لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ نابلس میں سیکڑوں اسرائیلی قبضہ گیروں کا حضرت یوسفؑ کے مزار پر حملہ ایپسٹین سے روابط ، ناروے کے وزیراعظم سمیت 11 وزراء پارلیمنٹ میں طلب برطانیہ کے عجائب گھروں میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ مفت حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز مصر: 1700 سال قدیم پراسرار مقبرہ دریافت حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ، ڈیزل سستا کر دیا کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے شیڈول کا اعلان، پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں شامل

چین: انسان نما روبوٹس نے فیکٹری میں 6 روزہ مسلسل ڈیوٹی کامیابی سے مکمل کر لی

Web Desk

30 June 2026

چین میں مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس کی دنیا میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی گئی ہے، جہاں انسان نما روبوٹس (Humanoid Robots) نے ایک فیکٹری کی پروڈکشن لائن پر مسلسل چھ روز تک کام کرتے ہوئے 99.99 فیصد کامیابی کے ساتھ 60 ہزار سے زائد صنعتی ٹاسک مکمل کر لیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، روبوٹکس کمپنی ‘اگی بوٹ’ (Agibot) کے تیار کردہ ان جدید روبوٹس نے مشرقی چین کے شہر نینچینگ میں واقع ایک فیکٹری میں 64 گھنٹوں سے زیادہ وقت تک کوالٹی کنٹرول، پرزوں کے معائنے اور سامان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی جیسے اہم فرائض انجام دیے۔ اس تاریخی اور انوکھے تجربے کی دنیا بھر میں براہِ راست نشریات (Live Streaming) بھی کی گئیں۔

اگی بوٹ کے سینئر نائب صدر یاؤ ماؤچنگ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ انسان نما روبوٹس کے شعبے میں اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ روبوٹ کیا کر سکتے ہیں، بلکہ اب اہم بات یہ ہے کہ آیا انہیں حقیقی صنعتی ماحول میں مؤثر انداز میں تعینات کر کے عملی اور تجارتی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ کمپنی کے مطابق، اس کامیاب تجربے کا بنیادی مقصد یہ دکھانا تھا کہ اے آئی سے چلنے والے انسان نما روبوٹس مسلسل کئی دن تک بغیر تھکے حقیقی پیداواری ماحول میں قابلِ اعتماد طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کمپنی نے یہ اہم اعلان بھی کیا کہ وہ اب تک 15 ہزار سے زائد ایسے روبوٹس تیار کر چکی ہے، جو بڑے پیمانے پر حقیقی دنیا میں روبوٹس کی عملی تعیناتی کی جانب ایک سنگِ میل ہے۔ دوسری جانب، چین نے اپنے 2026 سے 2030 کے نئے پانچ سالہ اقتصادی منصوبے میں انسان نما روبوٹس کو ملک کی ترقی کے لیے ترجیحی 10 اہم ترین صنعتی شعبوں میں شامل کر لیا ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔