LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے وزیراعظم رواں ہفتے ایران کا دورہ کریں گے چین: انسان نما روبوٹس نے فیکٹری میں 6 روزہ مسلسل ڈیوٹی کامیابی سے مکمل کر لی ایران کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بہت کام باقی ہے، نیتن یاہو انڈونیشیا وزیر تعلیم اور گوجیک ایپ کے بانی کو کرپشن پر اربوں روپے جرمانہ اور قید مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے: ایران بلوچستان کی سرحر پر افغان طالبان رجیم کے4 ڈرونز کو سیکیورٹی فورسز نے مار گرایا ئی اے ای اے کو ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی نہیں دی گئی، امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرے: اسماعیل بقائی برطانیہ کا مزید 45 ہزار غیر قانونی مقیم افراد کو ملک بدر کرنے کا اعلان فیفا ورلڈ کپ: ناروے نے آئیوری کوسٹ کو شکست دے کر پری کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا کاہنہ حادثہ پر ایجوکیشن اتھارٹی کی رپورٹ تیار، ضلعی انتطامیہ کو ارسال پاکستان نے پہلی بار بین الاقوامی زیتون کونسل میں مستقل رکن کی حیثیت سے نشست سنبھال لی اسرائیلی حملے شام کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں: شامی صدر احمد الشرع ایرانی نائب وزیر خارجہ کل دوحہ میں قطری حکام سے اہم ملاقات کرینگے: ایران پیدائشی شہریت پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹرمپ کی تنقید، کانگریس سے قانون سازی کا مطالبہ جنوبی لبنان میں بفر زون کا قیام اسرائیل کی اہم کامیابی ہے: نیتن یاہو

چین: انسان نما روبوٹس نے فیکٹری میں 6 روزہ مسلسل ڈیوٹی کامیابی سے مکمل کر لی

Web Desk

30 June 2026

چین میں مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس کی دنیا میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی گئی ہے، جہاں انسان نما روبوٹس (Humanoid Robots) نے ایک فیکٹری کی پروڈکشن لائن پر مسلسل چھ روز تک کام کرتے ہوئے 99.99 فیصد کامیابی کے ساتھ 60 ہزار سے زائد صنعتی ٹاسک مکمل کر لیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، روبوٹکس کمپنی ‘اگی بوٹ’ (Agibot) کے تیار کردہ ان جدید روبوٹس نے مشرقی چین کے شہر نینچینگ میں واقع ایک فیکٹری میں 64 گھنٹوں سے زیادہ وقت تک کوالٹی کنٹرول، پرزوں کے معائنے اور سامان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی جیسے اہم فرائض انجام دیے۔ اس تاریخی اور انوکھے تجربے کی دنیا بھر میں براہِ راست نشریات (Live Streaming) بھی کی گئیں۔

اگی بوٹ کے سینئر نائب صدر یاؤ ماؤچنگ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ انسان نما روبوٹس کے شعبے میں اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ روبوٹ کیا کر سکتے ہیں، بلکہ اب اہم بات یہ ہے کہ آیا انہیں حقیقی صنعتی ماحول میں مؤثر انداز میں تعینات کر کے عملی اور تجارتی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ کمپنی کے مطابق، اس کامیاب تجربے کا بنیادی مقصد یہ دکھانا تھا کہ اے آئی سے چلنے والے انسان نما روبوٹس مسلسل کئی دن تک بغیر تھکے حقیقی پیداواری ماحول میں قابلِ اعتماد طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کمپنی نے یہ اہم اعلان بھی کیا کہ وہ اب تک 15 ہزار سے زائد ایسے روبوٹس تیار کر چکی ہے، جو بڑے پیمانے پر حقیقی دنیا میں روبوٹس کی عملی تعیناتی کی جانب ایک سنگِ میل ہے۔ دوسری جانب، چین نے اپنے 2026 سے 2030 کے نئے پانچ سالہ اقتصادی منصوبے میں انسان نما روبوٹس کو ملک کی ترقی کے لیے ترجیحی 10 اہم ترین صنعتی شعبوں میں شامل کر لیا ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔