مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی انسانی سمجھ اور حکومتی قوانین سے آگے نکل گئی، اقوام متحدہ کا انتباہ
Web Desk
1 July 2026
اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل نے دنیا کو ایک سنگین خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی سائنسی سمجھ بوجھ اور حکومتی پالیسیوں سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جس کے باعث یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی کسی بڑے یا تباہ کن نقصان کا سبب نہیں بنے گی۔
جنیوا میں جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتوں کو مؤثر قانون سازی کے لیے مضبوط سائنسی شواہد درکار ہیں، تاہم AI کی برق رفتار ترقی کے باعث سائنسی تحقیق اور پالیسی سازی اس کا ساتھ نہیں دے پا رہی۔ پینل کے شریک چیئرمین یوشوا بینجیو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جبکہ ایسے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں کہ بعض AI سسٹمز دھوکہ دہی پر مبنی رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔ موجودہ سائنسی علم اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ مستقبل میں AI خودکار طریقے سے یا بدنیتی پر مبنی استعمال کے ذریعے تباہ کن نتائج پیدا نہیں کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق، مستقبل قریب میں ایسے “ایجنٹک AI” سسٹمز سامنے آئیں گے، جو انسانی مداخلت کے بغیر حقیقی دنیا کے مختلف اور پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، جبکہ طویل مدت میں مصنوعی ذہانت خود کو مزید بہتر بنانے، معیشت میں گہرائی سے شامل ہونے اور کوانٹم کمپیوٹنگ و بایوٹیکنالوجی جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز کے ساتھ یکجا ہونے کی جانب بڑھ سکتی ہے۔
اگرچہ AI پہلے ہی ریاضی اور سائنس جیسے شعبوں میں ماہرین کی سطح کی کارکردگی دکھا رہی ہے اور ادویات و ویکسین کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ ابھی واضح نہیں کہ اس سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد روزگار اور عالمی اقتصادی ترقی پر کس حد تک مثبت یا منفی اثر ڈالیں گے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کو غلط معلومات پھیلانے، مالی فراڈ، سائبر حملوں اور حیاتیاتی خطرات کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ دنیا کے کئی ممالک کے پاس جدید AI سسٹمز کی نگرانی اور مؤثر ضابطہ بندی (Regulation) کی بنیادی صلاحیت ہی موجود نہیں۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ AI کے مؤثر اور محفوظ استعمال کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ “دنیا ایسی چیز کو مؤثر انداز میں منظم نہیں کر سکتی جسے وہ مکمل طور پر سمجھتی ہی نہ ہو۔ AI میں جہاں بے پناہ امکانات موجود ہیں، وہیں اس کے خطرات بھی حقیقی ہیں اور اب مزید انتظار کرنے کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے۔”
متعلقہ عنوانات
سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک
8 November 2026
مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی
8 November 2026
غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر
8 November 2026
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج
8 November 2026
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن
8 November 2026
وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد
8 November 2026