LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم آزادکشمیرکی فوڈ اتھارٹی کو کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات کا حکم درجہ حرارت میں اضافے کا امکان، متعلقہ ادارے الرٹ رہیں: این ڈی ایم اے گورنر پنجاب نے سیلاب متاثرین میں 26 گھروں کی چابیاں تقسیم کردیں پاکستان کی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت ایرانی صدر کا جارح قوتوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں ترمیم منظور، ججز کے تبادلوں کی راہ ہموار قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ

چین میں پل کے نیچے آباد انوکھا رہائشی منصوبہ، ہزاروں افراد برسوں سے مقیم

Web Desk

17 July 2026

چین کے شہر گویانگ میں واقع شوئیکوسی پُل کے نیچے قائم ایک منفرد اور انوکھا رہائشی منصوبہ آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 1997 میں تعمیر ہونے والے اس پُل کے دو سال بعد یعنی 1999 میں، شہر میں سستی رہائش کے لیے زمین کی شدید قلت کے باعث حکام نے پل کے نیچے موجود خالی جگہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں کم لاگت والے اپارٹمنٹس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں یہاں تقریباً 10 رہائشی عمارتیں تعمیر کی گئیں، جنہیں کم آمدنی والے خاندانوں اور بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے استعمال کیا گیا، اور بعد میں مزید عمارتیں بھی بنا دی گئیں۔ اگرچہ پُل کے اوپر سے گزرتی گاڑیوں کی مسلسل آوازیں اور وائبریشن (کمپن) یہاں کے مکینوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، لیکن مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے بالکل وسط اور مرکز میں سستے کرائے پر رہائش کی سہولت اس تکلیف سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اب اس شور کو اپنی زندگی کا معمول سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔