LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی سپریم لیڈر کے ہر حکم پر عمل کریں گے؛ حوثی کمانڈر کا دوٹوک اعلان ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر جل گئے ایرانی فوجی صلاحیتیں کمزور کرنے کا مشن، امریکا کے مسلسل ساتویں رات ایران پر حملے حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے مذاکرات کامیاب، تحریری معاہدہ طے پا گیا ایرانی وزارت توانائی کی شہریوں سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل 27 جولائی کو جب کشمیر میں ڈبے کھلیں گے تو ہر طرف شیر ہی شیر ہوگا: مریم اورنگزیب خطے کے پانیوں میں امریکی فوج کی نقل و حرکت، انکے فوجی ساز و سامان پر نظر ہے: ایران فارما سیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا: مصطفیٰ کمال خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی سرکار پریشان، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر پابندی لگادی پٹرولیم قیمتوں کی ڈی ریگولیشن مسترد، پٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کی دھمکی پاسدارانِ انقلاب کا قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم: پٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل ریکارڈ 31 روپے 5 پیسے مہنگا ایرانی حملے میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا: کویت امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر پیٹرولیم مصنوعات:حکومتی اقدام کو “لوٹ مار” اور “ڈاکہ” قرار,حافظ نعیم الرحمان

چین میں پل کے نیچے آباد انوکھا رہائشی منصوبہ، ہزاروں افراد برسوں سے مقیم

Web Desk

17 July 2026

چین کے شہر گویانگ میں واقع شوئیکوسی پُل کے نیچے قائم ایک منفرد اور انوکھا رہائشی منصوبہ آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 1997 میں تعمیر ہونے والے اس پُل کے دو سال بعد یعنی 1999 میں، شہر میں سستی رہائش کے لیے زمین کی شدید قلت کے باعث حکام نے پل کے نیچے موجود خالی جگہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں کم لاگت والے اپارٹمنٹس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں یہاں تقریباً 10 رہائشی عمارتیں تعمیر کی گئیں، جنہیں کم آمدنی والے خاندانوں اور بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے استعمال کیا گیا، اور بعد میں مزید عمارتیں بھی بنا دی گئیں۔ اگرچہ پُل کے اوپر سے گزرتی گاڑیوں کی مسلسل آوازیں اور وائبریشن (کمپن) یہاں کے مکینوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، لیکن مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے بالکل وسط اور مرکز میں سستے کرائے پر رہائش کی سہولت اس تکلیف سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اب اس شور کو اپنی زندگی کا معمول سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔