LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے مطالبات رکھ دیئے ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج مدمقابل ہونگی دوبارہ فوجی ایکشن سے سفارتکاری کا وقت آگیا، دباؤ بڑھا کر امریکا رعایتیں حاصل نہیں کر سکتا: ایران ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اہم ترین محاذ بن گیا: میڈیا رپورٹ

چین میں پل کے نیچے آباد انوکھا رہائشی منصوبہ، ہزاروں افراد برسوں سے مقیم

Web Desk

17 July 2026

چین کے شہر گویانگ میں واقع شوئیکوسی پُل کے نیچے قائم ایک منفرد اور انوکھا رہائشی منصوبہ آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 1997 میں تعمیر ہونے والے اس پُل کے دو سال بعد یعنی 1999 میں، شہر میں سستی رہائش کے لیے زمین کی شدید قلت کے باعث حکام نے پل کے نیچے موجود خالی جگہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں کم لاگت والے اپارٹمنٹس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں یہاں تقریباً 10 رہائشی عمارتیں تعمیر کی گئیں، جنہیں کم آمدنی والے خاندانوں اور بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے استعمال کیا گیا، اور بعد میں مزید عمارتیں بھی بنا دی گئیں۔ اگرچہ پُل کے اوپر سے گزرتی گاڑیوں کی مسلسل آوازیں اور وائبریشن (کمپن) یہاں کے مکینوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، لیکن مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے بالکل وسط اور مرکز میں سستے کرائے پر رہائش کی سہولت اس تکلیف سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اب اس شور کو اپنی زندگی کا معمول سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔