LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی استحکام، اصلاحات پر تبادلہ خیال وزیراعظم نے لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو کی منظوری دے دی سی سی ڈی اہلکار کی دوشیزہ سے زیادتی، ویڈیو بھی بنا لی، مقدمہ درج اسلام آباد میں مین ہٹن طرز کا منصوبہ بنانے کا اعلان، سعودی سرمایہ کاروں کو دعوت گوادر میں دہشت گردی کی کوشش ناکام، خاتون سمیت 10 دہشت گرد جہنم واصل یونیورسٹی آف لندن میں لیکچر کیلئے مدعو کیا جانا باعث اعزاز ہے: سارہ احمد پنجاب حکومت کا لاہور میں سہ روزہ بسنت کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان ہفتہ وار مہنگائی میں مزید 0.65 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 11.85 فیصد تک پہنچ گئی پیٹرول پمپ مالکان کا ڈیلی پرائس میکانزم پر ایک بار پھر تحفظات کا اظہار مریم اورنگزیب سے چینی ڈپٹی ہیڈ آف مشن کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق فورسز کے ساتھ کھڑی نہ ہونے والی سیاسی جماعت مائنس ہو جائے گی: رانا ثنا اللہ نیوزی لینڈ کی فوج کے سربراہ نامناسب تعلق کا انکشاف ہونے پر مستعفی باغوں کا شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا، لاہور کا گرین ایریا خطرناک حد تک سکڑ گیا سکوٹی پر سفر کرتی لڑکی سے غنڈہ گردی اور تشدد کرنے والا ملزم گرفتار استنبول میں پاکستان سمیت 7 ملکی اجلاس، خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا

ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے مطالبات رکھ دیئے

Web Desk

19 August 2026

آبنائے ہرمز کی کشادگی کے لیے ایران کے امریکا کے سامنے مطالبات، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کا تقاضا ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کے عوض امریکی انتظامیہ کے سامنے اپنے باقاعدہ مطالبات پیش کر دیے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹس کے مطابق، ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ (Islamabad MoU) کے تمام نکات پر من و عن اور مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔ اس اہم یادداشت کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام جیو پولیٹیکل محاذوں پر ہر قسم کی فوجی کارروائیاں اور حملے روکنے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ ایران نے ایٹمی ہتھیار تیار نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ مفاہمتی یادداشت کے مسودے میں امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں اور سمندری حدود کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط شامل تھی۔ اس کے بدلے ایران نے آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلامعاوضہ آمد و رفت کی ضمانت دی تھی۔ اس کے علاوہ اس معاہدے کے تحت امریکا نے ایران پر عائد تمام اقتصادی و مالیاتی پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے، منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی اور ایران کی جنگ بعد ازاں تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے معاشی منصوبے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم، معاہدے کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک امریکا ان تمام تسلیم شدہ شرائط کی پاسداری نہیں کرتا، آبنائے ہرمز سے تجارتی آمد و رفت بحال نہیں کی جائے گی۔