LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیپلزپارٹی کا وفد آج اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ملاقات کرے گا: ذرائع سرگئی لاوروف نے پوتن کے جزائر کوریل دورے پر جاپانی احتجاج کو ناقابل قبول قرار دے دیا یوکرینی میزائل حملے میں 6 شہری ہلاک، 14 سالہ بچے سمیت 4 زخمی ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کیلئے تہران کو سفید جھنڈا لہرانے کا مشورہ دے دیا امریکا سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، ایرانی پاسداران انقلاب نے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کردی ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی: بلال کیانی وزیراعظم کی اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایت کیش لیس اکانومی پر وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی: عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی بگڑتی صحت کے خدشات کی تصدیق ہوگئی: شیخ وقاص اکرم خیبرپختونخوا: جعلی و ملاوٹ شدہ ادویات کی فروخت پر سزائیں مزید سخت کرنے کا فیصلہ جنگ کا خاتمہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق ہونا چاہیے: پاسداران انقلاب ٹرمپ آبنائے ہرمز پر بے بنیاد دعوؤں کے بجائے اپنی سلامتی پر توجہ دیں: ابراہیم عزیزی بانی پی ٹی آئی کےعلاج میں کوتاہی ہوئی تو ذمہ دار جیل اور عدلیہ ہو گی: رانا ثناء اللہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پیپلز پارٹی کا آزاد کشمیر الیکشن، نئے صوبوں کا معاملہ پارلیمان میں اٹھانے کا فیصلہ

’آسیب‘ کا خوف، 600 طلبہ نے بورڈنگ سکول چھوڑ دیا

Web Desk

17 August 2026

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے گاؤں ڈوما میں واقع ایک سرکاری بورڈنگ سکول کے تقریباً 600 طلبہ پراسرار خوف اور آسیبی افواہوں کے باعث ہاسٹل چھوڑ کر گھروں کو لوٹ گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 22 جولائی کو سکول کی 4 طالبات اچانک بے قابو ہو کر چیخنے چلانے، رونے اور بعد میں غیر معمولی انداز میں ہنسنے لگیں۔ اس واقعے کے فوراً بعد سکول میں یہ افواہ پھیل گئی کہ طالبات پر آسیب کا سایہ ہے، جبکہ بعض دیگر بچوں نے پازیب بجنے کی عجیب آوازیں سنائی دینے کا دعویٰ بھی کیا۔ مجموعی طور پر 810 طلبہ والے اس ادارے سے خوف کے باعث چند دنوں میں ہی اکثریت خالی ہو گئی۔

سکول اور ہاسٹل کا معائنہ کرنے والے صحت کے ماہرین نے کسی بھی قسم کی مافوق الفطرت یا پراسرار طاقت کے شواہد کو مسترد کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شدید ذہنی دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ماس ہسٹیریا (Mass Hysteria) کی کیفیت ہے، جس کے اثرات بعد میں گاؤں کی بعض دیگر خواتین میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق واقعے کو لے کر علاقے میں مختلف مفروضے پھیل گئے۔ کچھ کا ماننا تھا کہ سکول میں موجود ‘مہوا’ کا پرانا درخت کاٹنے سے ارواح ناراض ہوئیں، جبکہ بعض نے اسے مقامی مندر کی بے حرمتی اور ایک قبائلی نوجوان کی موت سے جوڑ دیا۔سکول کے سربراہ سنجے چوہدری کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام اور ماہرینِ نفسیات کی ٹیمیں بچوں اور والدین کی کونسلنگ کر رہی ہیں، خوف کے بادل چھٹنے کے بعد کچھ طلبہ نے واپس آنا شروع کر دیا ہے۔