LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

102 سالہ چینی خاتون جسے 50 سال میں کبھی ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں پڑی

Web Desk

16 March 2026

چین کے صوبے ژجیانگ کے علاقے تانیژو سے تعلق رکھنے والی 102 سالہ  جن باؤ لینگ  اپنے علاقے میں لمبی عمر اور خوش مزاج شخصیت کے باعث جانی جاتی ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 102 سال کی عمر میں بھی جن باؤ لینگ ذہنی طور پر انتہائی مستعد ہیں اور جسمانی طور پر بھی ان کی صحت مثالی ہے۔ ان کے بیٹے Ho Hoami کے مطابق گذشتہ 50 سال کے دوران انہیں کبھی ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں پڑی۔

جن باؤ لینگ کی روزمرہ زندگی بھی دلچسپ ہے۔ وہ صبح تقریباً نو بجے اٹھتی ہیں، نہانے کے بعد باغ میں سورج کی روشنی سے لطف اندوز ہوتی ہیں اور شام سات بجے کے قریب سونے کے لیے جاتی ہیں۔ دن بھر وہ کئی مرتبہ مختصر قیلولہ کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ مجموعی طور پر دن میں تقریباً پندرہ گھنٹے سوتی ہیں۔

ان کا کھانے پینے کا انداز بھی منفرد ہے۔ دوپہر اور رات کے کھانے میں وہ نوڈلز یا چاول کو ترجیح دیتی ہیں اور گوشت بھی پسند کرتی ہیں۔ کیک اور چائے ان کی پسندیدہ خوراک میں شامل ہیں، جن میں براؤن چینی اور کھجوریں استعمال ہوتی ہیں۔ روزانہ دو انڈے اور تین مالٹے بھی ان کی غذا کا حصہ ہیں، تاہم سبزیاں انہیں زیادہ پسند نہیں۔

اگرچہ اب ان کی ٹانگوں کے جوڑ کم لچکدار ہیں اور چلنے کے لیے مدد درکار ہے، لیکن ان کی بینائی شاندار ہے اور ہاتھ بالکل درست کام کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اب بھی سلائی کر لیتی ہیں۔

جن باؤ لینگ کی زندگی اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ صحت مند طرز زندگی اور خوش مزاج شخصیت لمبی عمر اور بہترین معیارِ زندگی کے لیے کس قدر اہم ہیں۔