LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

بھارت؛ اسکول کے 35 طلبہ کے ہاتھوں پر پراسرار گہرے زخم کے نشانات

Web Desk

20 February 2026

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع دھمتری کے علاقے کرود بلاک میں ایک مڈل اسکول کے 35 طلبہ کے ہاتھوں پر پراسرار زخموں کے نشانات نے اسکول انتظامیہ، والدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ ان بچوں نے بلیڈ یا کسی نوکیلی چیز سے اپنے ہاتھوں کو زخمی کیا ہے، لیکن حیران کن طور پر کوئی بھی بچہ اس کی وجہ بتانے کو تیار نہیں ہے۔

یہ لرزہ خیز انکشاف اس وقت ہوا جب ایک بچے کے والدین نے اس کے ہاتھوں پر کٹ کے نشانات دیکھے۔ بچے کی خاموشی پر جب والدین نے اسکول جا کر دیگر طلبہ سے پوچھا، تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ اسکول کے 35 بچے اسی طرح کے زخموں کا شکار ہیں۔ اس اطلاع کے بعد پورے گاؤں میں صدمے اور خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔

واقعے کی سنگینی کے پیشِ نظر محکمہ صحت، محکمہ تعلیم اور ماہرینِ نفسیات کی ٹیموں نے اسکول کا دورہ کیا ہے۔ ابتدائی طور پر اسے کسی آن لائن گیم، سوشل میڈیا چیلنج یا گروہی دباؤ (Peer Pressure) کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بچے ابھی تک اس کی اصل وجہ بتانے سے گریزاں ہیں۔ اسکول انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر والدین کا اجلاس طلب کیا ہے اور اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بچوں کی ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں۔