LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

بھارت؛ اسکول کے 35 طلبہ کے ہاتھوں پر پراسرار گہرے زخم کے نشانات

Web Desk

20 February 2026

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع دھمتری کے علاقے کرود بلاک میں ایک مڈل اسکول کے 35 طلبہ کے ہاتھوں پر پراسرار زخموں کے نشانات نے اسکول انتظامیہ، والدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ ان بچوں نے بلیڈ یا کسی نوکیلی چیز سے اپنے ہاتھوں کو زخمی کیا ہے، لیکن حیران کن طور پر کوئی بھی بچہ اس کی وجہ بتانے کو تیار نہیں ہے۔

یہ لرزہ خیز انکشاف اس وقت ہوا جب ایک بچے کے والدین نے اس کے ہاتھوں پر کٹ کے نشانات دیکھے۔ بچے کی خاموشی پر جب والدین نے اسکول جا کر دیگر طلبہ سے پوچھا، تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ اسکول کے 35 بچے اسی طرح کے زخموں کا شکار ہیں۔ اس اطلاع کے بعد پورے گاؤں میں صدمے اور خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔

واقعے کی سنگینی کے پیشِ نظر محکمہ صحت، محکمہ تعلیم اور ماہرینِ نفسیات کی ٹیموں نے اسکول کا دورہ کیا ہے۔ ابتدائی طور پر اسے کسی آن لائن گیم، سوشل میڈیا چیلنج یا گروہی دباؤ (Peer Pressure) کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بچے ابھی تک اس کی اصل وجہ بتانے سے گریزاں ہیں۔ اسکول انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر والدین کا اجلاس طلب کیا ہے اور اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بچوں کی ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں۔