LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے صومالی وزیر دفاع کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق واشک اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشنز، 12 دہشتگرد جہنم واصل شفاف انتخابات تک بڑی آئینی تبدیلی قبول نہیں: سلمان اکرم راجہ سفارتی وفد کا این ڈی ایم اے کا دورہ، جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کو سراہا فیک نیوز کی روک تھام ناگزیر، صحافت ذمہ دارانہ پیشہ ہے: عظمیٰ بخاری وزیراعظم اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ سہ روزہ دورہ پر سعودی عرب روانہ PMDC کا ایم ڈی کیٹ امتحانات کے شیڈول میں تبدیلی کا اعلان، ٹیسٹ اب 20 ستمبر کو ہو گا راولپنڈی میں رواں سال ڈینگی کے 6 کیسز سامنے آ گئے، 67 ہزار سے زائد لاروا تلف، ہیلتھ اتھارٹی کی رپورٹ جاری ہم افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، افغان طالبان کو پاکستان یا دہشت گردوں میں سے ایک کو چننا ہوگا: دفترِ خارجہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے تاثر کی تردید,اڈیالہ جیل حکام کی رپورٹ پیش پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز نے میٹرک 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا حافظ نعیم الرحمن کی 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کی اپیل براڈ پیک حادثہ: جاں بحق ہونے والے پانچ غیرملکی کوہ پیماؤں کی میتیں سکردو پہنچا دی گئیں پاکستان جلد یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کرے گا، فیصل نیاز ترمذی ٹرمپ نے امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی خبروں کو مسترد کر دیا

بھارت؛ اسکول کے 35 طلبہ کے ہاتھوں پر پراسرار گہرے زخم کے نشانات

Web Desk

20 February 2026

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع دھمتری کے علاقے کرود بلاک میں ایک مڈل اسکول کے 35 طلبہ کے ہاتھوں پر پراسرار زخموں کے نشانات نے اسکول انتظامیہ، والدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ ان بچوں نے بلیڈ یا کسی نوکیلی چیز سے اپنے ہاتھوں کو زخمی کیا ہے، لیکن حیران کن طور پر کوئی بھی بچہ اس کی وجہ بتانے کو تیار نہیں ہے۔

یہ لرزہ خیز انکشاف اس وقت ہوا جب ایک بچے کے والدین نے اس کے ہاتھوں پر کٹ کے نشانات دیکھے۔ بچے کی خاموشی پر جب والدین نے اسکول جا کر دیگر طلبہ سے پوچھا، تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ اسکول کے 35 بچے اسی طرح کے زخموں کا شکار ہیں۔ اس اطلاع کے بعد پورے گاؤں میں صدمے اور خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔

واقعے کی سنگینی کے پیشِ نظر محکمہ صحت، محکمہ تعلیم اور ماہرینِ نفسیات کی ٹیموں نے اسکول کا دورہ کیا ہے۔ ابتدائی طور پر اسے کسی آن لائن گیم، سوشل میڈیا چیلنج یا گروہی دباؤ (Peer Pressure) کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بچے ابھی تک اس کی اصل وجہ بتانے سے گریزاں ہیں۔ اسکول انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر والدین کا اجلاس طلب کیا ہے اور اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بچوں کی ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں۔