LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

برطانیہ میں بہروپئے نے انتہا کردی! ایڈمرل بن کر فوجی تقریب میں شرکت

Web Desk

14 November 2025

رطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق برطانیہ میں ایک بہروپئے نے فوجی تقریب میں ایسا دھوکا دیا کہ سب حیران رہ گئے۔ شخص نے خود کو ریئر ایڈمرل ظاہر کرتے ہوئے شمالی ویلز کے شہر لینڈڈنو میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور دوسری جنگِ عظیم میں خدمات انجام دینے والے فوجیوں کی یادگار پر پھول چڑھائے۔
تقریب کے دوران وہ یادگار کے سامنے باقاعدہ فوجی انداز میں سلامی دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اس نے ریئر ایڈمرل کی وردی پہن رکھی تھی جس پر بارہ تمغے سجے ہوئے تھے، جنہیں بعد میں جعلی سمجھا گیا۔
مقامی پولیس کے مطابق یہ شخص اس سے قبل بھی مختلف یادگاری تقریبات میں اسی طرح شریک ہوتا رہا ہے۔
رائل نیوی نے اس عمل کو ’’سابق فوجیوں کی توہین‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ممکنہ طور پر 1894 کے یونیفارمز ایکٹ کے تحت جرم بھی ہوسکتا ہے، جس کے تحت فوجی وردی یا عہدے کی جعلی نمائندگی قابلِ سزا فعل ہے۔
واقعے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس اور متعلقہ اداروں نے معاملے کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔