مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
Web Desk
24 July 2026
امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ 8 سال تک 13,000 بالغ افراد پر کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق جو افراد روزانہ 191 ملی گرام (تقریباً 1 کین ڈائٹ سوڈا کے برابر) مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے ہیں، ان میں یادداشت کی کمی کی رفتار 62% زیادہ دیکھی گئی۔ یونیورسٹی آف ساؤ پالو کی ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو کی سربراہی میں کی گئی اس تحقیق میں ایسپارٹیم اور سیکرین سمیت 7 میں سے 6 اجزا کو اس خطرے سے منسلک پایا گیا، جبکہ 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریض اس سے زیادہ متاثر نظر آئے۔
متعلقہ عنوانات
تیز رفتار ورزش دل اور میٹابولک صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند قرار
20 August 2026
جلد کے کینسر کا علاج کرنے والی دوا آخری مرحلے میں کامیاب
20 August 2026
ہر شہری کی ہیپاٹائٹس اسکریننگ ہوگی، ٹیسٹ نہ کرانے والے ملازمین کی تنخواہ روکنے کا اعلان
19 August 2026
فون سے اسکرین شاٹ محفوظ کرنا یادداشت کمزور کر سکتا ہے: تحقیق
19 August 2026
امریکا میں خطرناک ’ویسٹ نائل وائرس‘ کا پھیلاؤ
19 August 2026
بلڈ پریشر کی پرانی دوا بچوں کی خطرناک دماغی بیماری کی رفتار سست کر سکتی ہے
18 August 2026
حکیم شہزاد کی رجسٹریشن منسوخی سے متعلق طب کونسل کا فیصلہ معطل
18 August 2026
کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا ہر 30 منٹ میں ایک جان لینے لگی: ڈبلیو ایچ او
17 August 2026