مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
Web Desk
24 July 2026
امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ 8 سال تک 13,000 بالغ افراد پر کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق جو افراد روزانہ 191 ملی گرام (تقریباً 1 کین ڈائٹ سوڈا کے برابر) مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے ہیں، ان میں یادداشت کی کمی کی رفتار 62% زیادہ دیکھی گئی۔ یونیورسٹی آف ساؤ پالو کی ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو کی سربراہی میں کی گئی اس تحقیق میں ایسپارٹیم اور سیکرین سمیت 7 میں سے 6 اجزا کو اس خطرے سے منسلک پایا گیا، جبکہ 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریض اس سے زیادہ متاثر نظر آئے۔
متعلقہ عنوانات
ڈرگ پرائسنگ کابینہ کمیٹی کا اجلاس: ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف اور شواہد کی بنیاد پر کرنے کی ہدایت
24 July 2026
بند گوبھی کے پتوں میں خطرناک جرثومے کا انکشاف، محکمہ صحت نے خبردار کردیا
24 July 2026
جوان لڑکی ’’بڑھاپے سے بچاؤ‘‘ کا انجکشن لگواتے ہی مر گئی!
24 July 2026
ازخود دوائیں مہنگی کرنے والی فارما کمپنیوں کے گرد گھیرا تنگ
23 July 2026
فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال کی پابندی عائد
22 July 2026
بھارت نے پہلی ڈینگی ویکسین کی منظوری دیدی
22 July 2026
ملک میں کانگو وائرس کا ایک اور کیس سامنے آگیا
22 July 2026
بہاولپور: 25 سالہ شخص منکی پاکس کے شبہ میں جان کی بازی ہار گیا
22 July 2026