مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
Web Desk
24 July 2026
امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ 8 سال تک 13,000 بالغ افراد پر کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق جو افراد روزانہ 191 ملی گرام (تقریباً 1 کین ڈائٹ سوڈا کے برابر) مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے ہیں، ان میں یادداشت کی کمی کی رفتار 62% زیادہ دیکھی گئی۔ یونیورسٹی آف ساؤ پالو کی ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو کی سربراہی میں کی گئی اس تحقیق میں ایسپارٹیم اور سیکرین سمیت 7 میں سے 6 اجزا کو اس خطرے سے منسلک پایا گیا، جبکہ 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریض اس سے زیادہ متاثر نظر آئے۔
متعلقہ عنوانات
سندھ میں منکی پاکس کا ایک اور کیس رپورٹ، تعداد 100 سے متجاوز
28 October 2026
ورزش سے دل پر مرتب ہونیوالے ایک حیرت انگیز اثر کا انکشاف
27 October 2026
خیبر پختونخوا میں ایم پاکس کے 4 نئے تصدیق شدہ کیسز رپورٹ
27 October 2026
کینسر کی واپسی کو 42 فیصد تک کم کرنے والی ویکسین تیار
27 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
27 October 2026
ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ قابلِ قبول نہیں: احد چیمہ
26 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
26 October 2026
سانس لینے کی مخصوص مشقیں ذہنی کیفیت تبدیل کر سکتی ہیں: تحقیق
26 October 2026