LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے

سربیا میں 3000 سال قدیم اجتماعی قبر دریافت

Web Desk

18 March 2026

بیلگریڈ: ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سربیا کے علاقے ‘گومالوا’ میں ایک ایسی اجتماعی قبر دریافت کی ہے جو قدیم دور میں ہونے والے ایک ہولناک قتلِ عام کی کہانی بیان کر رہی ہے۔ محققین کے مطابق یہ باقیات تقریباً 3000 سال پرانی ہیں اور ان افراد کی ہیں جو کسی حملے سے بچنے کے لیے بھاگ رہے تھے۔

یونیورسٹی کالج ڈبلن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر بیری مولائے، جو اس تحقیق کے شریک مصنف بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ٹیم کو توقع تھی کہ یہاں کسی بیماری کے باعث ہلاک ہونے والوں کی باقیات ہوں گی، تاہم شواہد نے قدیم قتلِ عام کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ قبر پہلی بار 1970 کی دہائی میں دریافت ہوئی تھی، لیکن حالیہ جدید جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے جنہیں 800 قبلِ مسیح کے قریب بے دردی سے مارا گیا تھا۔

آسٹرین آرکیالوجی انسٹیٹیوٹ کے ماہر ماریو گیورینووچ نے اس دریافت کو “حیران کن” قرار دیا ہے۔ تحقیق کے دوران جائے وقوعہ سے نہ صرف انسانوں بلکہ بھینٹ چڑھائے گئے جانوروں کی باقیات بھی ملی ہیں، جو اس دور کے مخصوص سماجی یا مذہبی پہلوؤں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دریافت قدیم انسانی رویوں اور جنگ و جدل کی تاریخ کو سمجھنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔