LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی پڑوسی ممالک ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں: پزشکیان مصطفیٰ کمال جس دن مناظرے کا کہیں، میں تیار ہوں: مرتضیٰ وہاب عمان مذاکرات کا کسی صورت یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی: عراقچی حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ کے بھائی کا قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کیلیے دوسرا خط نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے: واشنگٹن پوسٹ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں سے 76 ہزار افراد بے گھر روسی حملوں میں شدت، رواں سال انتہائی مشکل موسم سرما کا سامنا ہو سکتا ہے: یوکرینی حکام ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال

ڈائیٹ اور جگر کے کینسر کے درمیان خطرناک تعلق سامنے آ گیا

Web Desk

5 January 2026

امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ چکنائی سے بھرپور ہائی فیٹ کیٹو ڈائیٹ طویل مدت میں جگر کے خلیوں میں خطرناک تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے، جو بالآخر جگر کے کینسر کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق کیٹو ڈائیٹ میں کاربوہائیڈریٹس کا استعمال انتہائی محدود کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے چکنائی جلانا شروع کر دیتا ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور دنیا بھر میں مقبول ہے، تاہم سائنسدانوں نے اس کے ممکنہ مضر اثرات سے خبردار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی فیٹ ڈائیٹ جگر کے خلیوں کو ایک ایسی ابتدائی یا غیر مستحکم حالت میں لے جاتی ہے، جس سے وہ وقتی طور پر اضافی چکنائی کے دباؤ کو برداشت کر لیتے ہیں، مگر اس کے نتیجے میں یہ خلیے بیماریوں خصوصاً کینسر کے لیے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل انجینئرنگ اینڈ سائنسز کے ڈائریکٹر اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ایلکس شالیک کے مطابق، اگر جگر کے خلیے بار بار ہائی فیٹ ڈائیٹ کے دباؤ کا سامنا کریں تو وہ اپنی بقا کے لیے خود کو ڈھال لیتے ہیں، لیکن یہی عمل مستقبل میں کینسر کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہائی فیٹ ڈائیٹس کا تعلق پہلے ہی اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز (جگر میں چکنائی جمع ہونے کی بیماری) سے جوڑا جا چکا ہے، جو سوزش، جگر کی ناکامی اور بالآخر کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔

مطالعے کے دوران چوہوں کو طویل عرصے تک ہائی فیٹ ڈائیٹ دی گئی اور ان کے جگر کے خلیوں کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ابتدائی مرحلے میں جگر کے خلیے (ہیپاٹوسائٹس) بقا کے لیے مخصوص جینز کو فعال کر لیتے ہیں، تاہم جگر کے معمول کے افعال کے لیے ضروری جینز غیر فعال ہو جاتے ہیں۔

ہارورڈ ایم آئی ٹی کے گریجویٹ اور تحقیق کے شریک مصنف کونسٹینٹائن زواناس کے مطابق یہ ایک نازک توازن ہے، جس میں ہر خلیہ اپنی بقاء کے لیے کام کرتا ہے، لیکن اس عمل سے جگر کے مجموعی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔

تحقیق کے اختتام تک تقریباً تمام چوہے جو ہائی فیٹ ڈائیٹ پر تھے، جگر کے کینسر میں مبتلا ہو چکے تھے۔ محققین نے خبردار کیا کہ اگر جگر کے خلیے اس طرح کی تبدیلی اختیار کر لیں تو مستقبل میں معمولی جینیاتی تبدیلیاں بھی کینسر کے آغاز کا سبب بن سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق کیٹو ڈائیٹ اختیار کرنے والوں کے لیے ایک اہم وارننگ ہے اور طویل المدتی صحت کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن غذا اپنانا نہایت ضروری ہے۔