ڈائیٹ اور جگر کے کینسر کے درمیان خطرناک تعلق سامنے آ گیا
Web Desk
5 January 2026
امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ چکنائی سے بھرپور ہائی فیٹ کیٹو ڈائیٹ طویل مدت میں جگر کے خلیوں میں خطرناک تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے، جو بالآخر جگر کے کینسر کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق کیٹو ڈائیٹ میں کاربوہائیڈریٹس کا استعمال انتہائی محدود کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے چکنائی جلانا شروع کر دیتا ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور دنیا بھر میں مقبول ہے، تاہم سائنسدانوں نے اس کے ممکنہ مضر اثرات سے خبردار کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی فیٹ ڈائیٹ جگر کے خلیوں کو ایک ایسی ابتدائی یا غیر مستحکم حالت میں لے جاتی ہے، جس سے وہ وقتی طور پر اضافی چکنائی کے دباؤ کو برداشت کر لیتے ہیں، مگر اس کے نتیجے میں یہ خلیے بیماریوں خصوصاً کینسر کے لیے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل انجینئرنگ اینڈ سائنسز کے ڈائریکٹر اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ایلکس شالیک کے مطابق، اگر جگر کے خلیے بار بار ہائی فیٹ ڈائیٹ کے دباؤ کا سامنا کریں تو وہ اپنی بقا کے لیے خود کو ڈھال لیتے ہیں، لیکن یہی عمل مستقبل میں کینسر کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہائی فیٹ ڈائیٹس کا تعلق پہلے ہی اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز (جگر میں چکنائی جمع ہونے کی بیماری) سے جوڑا جا چکا ہے، جو سوزش، جگر کی ناکامی اور بالآخر کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔
مطالعے کے دوران چوہوں کو طویل عرصے تک ہائی فیٹ ڈائیٹ دی گئی اور ان کے جگر کے خلیوں کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ابتدائی مرحلے میں جگر کے خلیے (ہیپاٹوسائٹس) بقا کے لیے مخصوص جینز کو فعال کر لیتے ہیں، تاہم جگر کے معمول کے افعال کے لیے ضروری جینز غیر فعال ہو جاتے ہیں۔
ہارورڈ ایم آئی ٹی کے گریجویٹ اور تحقیق کے شریک مصنف کونسٹینٹائن زواناس کے مطابق یہ ایک نازک توازن ہے، جس میں ہر خلیہ اپنی بقاء کے لیے کام کرتا ہے، لیکن اس عمل سے جگر کے مجموعی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔
تحقیق کے اختتام تک تقریباً تمام چوہے جو ہائی فیٹ ڈائیٹ پر تھے، جگر کے کینسر میں مبتلا ہو چکے تھے۔ محققین نے خبردار کیا کہ اگر جگر کے خلیے اس طرح کی تبدیلی اختیار کر لیں تو مستقبل میں معمولی جینیاتی تبدیلیاں بھی کینسر کے آغاز کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق کیٹو ڈائیٹ اختیار کرنے والوں کے لیے ایک اہم وارننگ ہے اور طویل المدتی صحت کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن غذا اپنانا نہایت ضروری ہے۔
متعلقہ عنوانات
تیز رفتار ورزش دل اور میٹابولک صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند قرار
20 August 2026
جلد کے کینسر کا علاج کرنے والی دوا آخری مرحلے میں کامیاب
20 August 2026
ہر شہری کی ہیپاٹائٹس اسکریننگ ہوگی، ٹیسٹ نہ کرانے والے ملازمین کی تنخواہ روکنے کا اعلان
19 August 2026
فون سے اسکرین شاٹ محفوظ کرنا یادداشت کمزور کر سکتا ہے: تحقیق
19 August 2026
امریکا میں خطرناک ’ویسٹ نائل وائرس‘ کا پھیلاؤ
19 August 2026
بلڈ پریشر کی پرانی دوا بچوں کی خطرناک دماغی بیماری کی رفتار سست کر سکتی ہے
18 August 2026
حکیم شہزاد کی رجسٹریشن منسوخی سے متعلق طب کونسل کا فیصلہ معطل
18 August 2026
کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا ہر 30 منٹ میں ایک جان لینے لگی: ڈبلیو ایچ او
17 August 2026