LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاسداران انقلاب کا امریکی نگرانی میں آبنائے ہرمز عبور کرنیوالے جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ دہشت گردوں سے بات چیت کی گنجائش نہیں، ہتھیار ڈال دیں ورنہ ختم کر دیئے جائیں گے: پاک فوج وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہسپتال بنا کر علاج کرنا ہیلتھ کیئر نہیں، انسانوں کو بیماریوں سے بچانا حقیقی صحت ہے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 21 نشستوں پر الیکشن 02 اگست کو: 12 لاکھ ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کریں گے کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل عامر رضا کو نشان امتیاز (ملٹری) عطا کرنے کی منظوری وزیراعظم سے آذربائیجان کے سفیر کی الوداعی ملاقات، خضر فرہادوف کی خدمات کو سراہا قطری ایل این جی جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر لی، آج پاکستانی حدود میں داخل ہوگا محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس، پی ایس ایل سیزن کی تیاریوں پر گفتگو دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کیلئے قاہرہ میں جلد اہم اجلاس متوقع پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ایک لاکھ 76 ہزار پوائنٹس کی حد بحال قائداعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کی آج سالگرہ منائی جا رہی ہے ایران کی قشم جزیرے پر امریکی حملے کی شدید مذمت کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کوئلے کی کان میں دھماکا، 32 کان کن جاں بحق پاسداران انقلاب کا کویت میں امریکا کی علی السالم ایئربیس پر حملے کا دعویٰ

ڈائیٹ اور جگر کے کینسر کے درمیان خطرناک تعلق سامنے آ گیا

Web Desk

5 January 2026

امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ چکنائی سے بھرپور ہائی فیٹ کیٹو ڈائیٹ طویل مدت میں جگر کے خلیوں میں خطرناک تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے، جو بالآخر جگر کے کینسر کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق کیٹو ڈائیٹ میں کاربوہائیڈریٹس کا استعمال انتہائی محدود کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے چکنائی جلانا شروع کر دیتا ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور دنیا بھر میں مقبول ہے، تاہم سائنسدانوں نے اس کے ممکنہ مضر اثرات سے خبردار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی فیٹ ڈائیٹ جگر کے خلیوں کو ایک ایسی ابتدائی یا غیر مستحکم حالت میں لے جاتی ہے، جس سے وہ وقتی طور پر اضافی چکنائی کے دباؤ کو برداشت کر لیتے ہیں، مگر اس کے نتیجے میں یہ خلیے بیماریوں خصوصاً کینسر کے لیے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل انجینئرنگ اینڈ سائنسز کے ڈائریکٹر اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ایلکس شالیک کے مطابق، اگر جگر کے خلیے بار بار ہائی فیٹ ڈائیٹ کے دباؤ کا سامنا کریں تو وہ اپنی بقا کے لیے خود کو ڈھال لیتے ہیں، لیکن یہی عمل مستقبل میں کینسر کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہائی فیٹ ڈائیٹس کا تعلق پہلے ہی اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز (جگر میں چکنائی جمع ہونے کی بیماری) سے جوڑا جا چکا ہے، جو سوزش، جگر کی ناکامی اور بالآخر کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔

مطالعے کے دوران چوہوں کو طویل عرصے تک ہائی فیٹ ڈائیٹ دی گئی اور ان کے جگر کے خلیوں کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ابتدائی مرحلے میں جگر کے خلیے (ہیپاٹوسائٹس) بقا کے لیے مخصوص جینز کو فعال کر لیتے ہیں، تاہم جگر کے معمول کے افعال کے لیے ضروری جینز غیر فعال ہو جاتے ہیں۔

ہارورڈ ایم آئی ٹی کے گریجویٹ اور تحقیق کے شریک مصنف کونسٹینٹائن زواناس کے مطابق یہ ایک نازک توازن ہے، جس میں ہر خلیہ اپنی بقاء کے لیے کام کرتا ہے، لیکن اس عمل سے جگر کے مجموعی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔

تحقیق کے اختتام تک تقریباً تمام چوہے جو ہائی فیٹ ڈائیٹ پر تھے، جگر کے کینسر میں مبتلا ہو چکے تھے۔ محققین نے خبردار کیا کہ اگر جگر کے خلیے اس طرح کی تبدیلی اختیار کر لیں تو مستقبل میں معمولی جینیاتی تبدیلیاں بھی کینسر کے آغاز کا سبب بن سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق کیٹو ڈائیٹ اختیار کرنے والوں کے لیے ایک اہم وارننگ ہے اور طویل المدتی صحت کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن غذا اپنانا نہایت ضروری ہے۔