LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان صدر مملکت کا پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی خدمات کا اعتراف امریکا کا ایران کیساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کیخلاف بھی سخت اقدامات کا اعلان بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام بنگلادیش کے نئے صدر منتخب پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی، اسلام آباد کیلئے کال دوں گا: حافظ نعیم الرحمان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا بلاول بھٹو سے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو بیرونی سرمایہ کاری لانے کا مشن، صوبائی وزیر چوہدری شافع کینیڈا پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی، فیصلے کیخلاف درخواست دوبارہ دائر کر رہے ہیں: رانا ثنا نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے

ڈائیٹ اور جگر کے کینسر کے درمیان خطرناک تعلق سامنے آ گیا

Web Desk

5 January 2026

امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ چکنائی سے بھرپور ہائی فیٹ کیٹو ڈائیٹ طویل مدت میں جگر کے خلیوں میں خطرناک تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے، جو بالآخر جگر کے کینسر کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق کیٹو ڈائیٹ میں کاربوہائیڈریٹس کا استعمال انتہائی محدود کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے چکنائی جلانا شروع کر دیتا ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور دنیا بھر میں مقبول ہے، تاہم سائنسدانوں نے اس کے ممکنہ مضر اثرات سے خبردار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی فیٹ ڈائیٹ جگر کے خلیوں کو ایک ایسی ابتدائی یا غیر مستحکم حالت میں لے جاتی ہے، جس سے وہ وقتی طور پر اضافی چکنائی کے دباؤ کو برداشت کر لیتے ہیں، مگر اس کے نتیجے میں یہ خلیے بیماریوں خصوصاً کینسر کے لیے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل انجینئرنگ اینڈ سائنسز کے ڈائریکٹر اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ایلکس شالیک کے مطابق، اگر جگر کے خلیے بار بار ہائی فیٹ ڈائیٹ کے دباؤ کا سامنا کریں تو وہ اپنی بقا کے لیے خود کو ڈھال لیتے ہیں، لیکن یہی عمل مستقبل میں کینسر کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہائی فیٹ ڈائیٹس کا تعلق پہلے ہی اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز (جگر میں چکنائی جمع ہونے کی بیماری) سے جوڑا جا چکا ہے، جو سوزش، جگر کی ناکامی اور بالآخر کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔

مطالعے کے دوران چوہوں کو طویل عرصے تک ہائی فیٹ ڈائیٹ دی گئی اور ان کے جگر کے خلیوں کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ابتدائی مرحلے میں جگر کے خلیے (ہیپاٹوسائٹس) بقا کے لیے مخصوص جینز کو فعال کر لیتے ہیں، تاہم جگر کے معمول کے افعال کے لیے ضروری جینز غیر فعال ہو جاتے ہیں۔

ہارورڈ ایم آئی ٹی کے گریجویٹ اور تحقیق کے شریک مصنف کونسٹینٹائن زواناس کے مطابق یہ ایک نازک توازن ہے، جس میں ہر خلیہ اپنی بقاء کے لیے کام کرتا ہے، لیکن اس عمل سے جگر کے مجموعی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔

تحقیق کے اختتام تک تقریباً تمام چوہے جو ہائی فیٹ ڈائیٹ پر تھے، جگر کے کینسر میں مبتلا ہو چکے تھے۔ محققین نے خبردار کیا کہ اگر جگر کے خلیے اس طرح کی تبدیلی اختیار کر لیں تو مستقبل میں معمولی جینیاتی تبدیلیاں بھی کینسر کے آغاز کا سبب بن سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق کیٹو ڈائیٹ اختیار کرنے والوں کے لیے ایک اہم وارننگ ہے اور طویل المدتی صحت کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن غذا اپنانا نہایت ضروری ہے۔