LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان صدر مملکت کا پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی خدمات کا اعتراف امریکا کا ایران کیساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کیخلاف بھی سخت اقدامات کا اعلان بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام بنگلادیش کے نئے صدر منتخب پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی، اسلام آباد کیلئے کال دوں گا: حافظ نعیم الرحمان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا بلاول بھٹو سے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو بیرونی سرمایہ کاری لانے کا مشن، صوبائی وزیر چوہدری شافع کینیڈا پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی، فیصلے کیخلاف درخواست دوبارہ دائر کر رہے ہیں: رانا ثنا نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے

پمز ہسپتال میں مبینہ طبی غفلت، پھیپھڑوں کے بجائے جگر کی بائیوپسی، مریضہ جاں بحق

Web Desk

6 January 2026

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ڈاکٹروں کی سنگین مبینہ غفلت کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا خاتون مریضہ عابدہ پروین کی پھیپھڑوں کے بجائے جگر کی بائیوپسی کر دی گئی، جس کے بعد وہ جاں بحق ہو گئیں۔ مریضہ کا تعلق آزاد کشمیر کے علاقے ڈڈیال سے تھا اور انہیں 9 دسمبر کو پمز ہسپتال کے پلمونولوجی ڈیپارٹمنٹ میں داخل کیا گیا تھا۔

لواحقین کے مطابق ایچ او ڈی پلمونولوجی ڈاکٹر محمد اسرار کے فیصلے پر 16 دسمبر کو لنگز بائیوپسی کی گئی، تاہم چند گھنٹوں بعد ہی مریضہ کی موت واقع ہو گئی۔ بعد ازاں شوکت خانم لیبارٹری کی بائیوپسی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ پھیپھڑوں کے بجائے جگر کا ٹشو نکالا گیا تھا۔

واقعے کے بعد لواحقین نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں ڈاکٹر محمد اسرار، ڈاکٹر ہارون اشرف خان سمیت پروسیجر روم میں موجود دیگر ڈاکٹروں اور عملے کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اتھارٹی حکام کے مطابق درخواست موصول ہوتے ہی معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔