LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی سینیٹربرنی سینڈرز کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مستقل پابندی لگانے کی تجویز اسرائیلی انتہا پسند وزیر کا غزہ سے فلسطینیوں کی بیرون ملک منتقلی کا منصوبہ پیش ایران میں امریکی حملے میں شہید ہونے والے شہریوں کی تدفین کر دی گئی امریکی اقتصادی پابندیاں: ایران پر شدید معاشی دباؤ، مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ روسی ایس یو 57 ای لڑاکا طیارے سے لانچ ہونے والے اسٹیلتھ ڈرونز عالمی نمائش کیلئے تیار سعودی ولی عہد کا مصری صدر سے رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال جرمنی کی موجودہ قیادت نازی طرز عمل کی طرف لوٹ رہی ہے، دیمتری میدویدیف روس نے ایران سے ’دوری‘ اختیار کرنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن طویل تعیناتی کے بعد تھائی لینڈ پہنچ گیا روس کے کیف پر تازہ حملے میں بچے سمیت 10 افراد زخمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو تباہی کے دہانے پر قرار دیدیا کیف میں دو یوکرینی سکیورٹی اداروں کے درمیان فائرنگ، 3 انٹیلی جنس اہلکار زخمی امریکا چاہتا ہے مڈٹرم الیکشن تک جنگ جاری رہے: برطانوی میڈیا چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری پیرس سے لندن پہنچ گئے بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، کشمیر کیلئے سزائے موت بھی قبول ہے: یاسین ملک

عمران خان کی بہنیں آج بھی ملاقات کیے بغیر واپس لوٹ گئیں

Web Desk

21 April 2026

راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دن کے موقع پر علیمہ خان، نورین خان اور ڈاکٹر عظمیٰ آڈیالہ جیل سے ملاقات کے بعد واپس روانہ ہو گئیں۔

فیکٹری ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خانم نے کہا کہ بانی پارٹی کے چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے، اور پارٹی کو انہی کے وژن کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بانی نے سیاسی جماعت بنانے کے لیے تیس سال جدوجہد کی، اس لیے ان کی سوچ اور اصولوں کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو اس ذمہ داری کے قابل سمجھتی ہیں، مگر اپنے بھائی کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی ترجیح ہے۔

علیمہ خانم نے کہا کہ پارٹی میں ان سے زیادہ باصلاحیت اور مخلص افراد کو آگے آنا چاہیے، اور سیاست ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ بانی کے نظریے کے لیے ہونی چاہیے۔

انہوں نے بانی کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت عبادت ہے، اور اسی پیغام کے ساتھ کارکنوں کو آگے بڑھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بانی کو حکومت سے ہٹایا گیا تو انہوں نے اس کے بعد مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، اور عوام آج بھی قیادت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ڈٹ کر کھڑے ہوں۔

علیمہ خانم نے مزید کہا کہ ہر پاکستانی کو سیاست کے حوالے سے شعور دیا گیا ہے، اور جمہوریت میں ووٹر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے نمائندوں سے سوال کرے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے بعض مواقع پر دباؤ ڈالا گیا، اور ایسے حالات میں بہتر فیصلے کیے جا سکتے تھے، مثلاً بانی کے علاج سے متعلق اقدامات۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت سرحدی حالات پُرامن ہیں اور مذاکرات جاری رہیں تو امن برقرار رہ سکتا ہے۔