LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

آسٹریلیوی شہری نے پالتو کتے کیلئے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے ویکسین بنا لی

Web Desk

19 March 2026

سڈنی: آسٹریلیا میں مشین لرننگ کے ایک ماہر پال کوننگھم نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پالتو کتے ‘روزی’ کی زندگی بچانے کے لیے ایک ذاتی نوعیت کی ایم آر این اے (mRNA) کینسر ویکسین تیار کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ روزی نامی کتے کو 2024 میں جلد کے کینسر (Mastocytoma) کی تشخیص ہوئی تھی اور ڈاکٹروں نے اسے محض چند ماہ کا وقت دیا تھا۔

پال کوننگھم نے اپنے 17 سالہ پیشہ ورانہ تجربے اور مصنوعی ذہانت کے ٹولز ‘چیٹ جی پی ٹی’ اور گوگل ڈیپ مائنڈ کے ‘ایلفا فولڈ’ (AlphaFold) کا سہارا لیا۔ چیٹ جی پی ٹی نے انہیں جینومک سیکوینسنگ اور امیونوتھراپی کا مکمل لائحہ عمل فراہم کیا، جبکہ ایلفا فولڈ نے کینسر زدہ پروٹینز کی تھری ڈی ساخت کا تجزیہ کرنے میں مدد دی۔ اس ڈیٹا کی بنیاد پر پال نے اپنے ذاتی الگورتھمز کے ذریعے مخصوص ‘ٹارگٹس’ منتخب کیے اور یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے تعاون سے دو ماہ کے اندر ویکسین تیار کر لی۔

دسمبر 2025 سے مارچ 2026 تک ویکسین کی تین خوراکیں دینے کے بعد روزی کی صحت میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ایک ٹیومر کا سائز تقریباً آدھا رہ گیا ہے۔ اگرچہ ایک دوسرا ٹیومر تاحال مزاحمت کر رہا ہے جس پر مزید تحقیق جاری ہے، تاہم سائنسدان اس کوشش کو ‘پرسنلائزڈ میڈیسن’ کی سمت میں ایک سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ اے آئی کی مدد سے مستقبل میں کینسر جیسی بیماریوں کا علاج تیزی سے اور کم لاگت میں ممکن ہو سکے گا۔