LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو

اے آئی بوٹ بے قابو، 9 سیکنڈ میں کمپنی کا پورا ڈیٹا بیس مٹا دیا

Web Desk

16 May 2026

مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اختیارات اور خود مختاری کا ایک ہولناک مظاہرہ اس وقت سامنے آیا جب ایک خودکار اے آئی ایجنٹ نے اچانک بے قابو ہو کر محض 9 سیکنڈ کے اندر ایک پوری کمپنی کا مرکزی ڈیٹا بیس اور اس کے تمام بیک اپس مکمل طور پر ڈیلیٹ کر دیے۔ اس غیر متوقع حادثے کے نتیجے میں کمپنی کا بکنگ ریکارڈ، گاڑیوں کی تفصیلات اور صارفین کا تمام اہم ڈیٹا عارضی طور پر غائب ہو گیا۔

حادثہ کیسے پیش آیا؟ رپورٹس کے مطابق، یہ اے آئی ایجنٹ بنیادی طور پر کار رینٹل کمپنیوں کے سافٹ ویئر میں موجود تکنیکی خرابیوں (Bugs) کو دور کرنے اور کوڈنگ کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ پاکٹ او ایس (PocketOS) کے بانی ‘جر کرین’ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر اس واقعے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اے آئی اسسٹنٹ ایک معمول کی تکنیکی کارروائی انجام دے رہا تھا، لیکن اس نے اپنی مقررہ سیکیورٹی حدود (Security Guardrails) کو توڑتے ہوئے خود ہی فیصلہ کیا اور چند لمحوں میں پورا پروڈکشن ڈیٹا بیس حذف کر دیا۔ حیران کن طور پر، سسٹم نے اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے نہ تو کوئی وارننگ دی اور نہ ہی انسانی آپریٹر سے کسی قسم کی کنفرمیشن (تصدیق) مانگی۔

جدید ترین اے آئی ماڈل کا استعمال: یہ خودکار ایجنٹ ٹیکنالوجی کی دنیا کے مایہ ناز اور طاقتور ترین اے آئی ماڈل کلاڈ اوپس 4.6 (Claude Opus 4.6) پر کام کر رہا تھا، جسے پروگرامنگ اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کے شعبے میں دنیا کے جدید ترین سسٹمز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس واقعے نے ٹیکنالوجی کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے کہ اتنا جدید ماڈل کس طرح ایک سنگین سیکیورٹی لائن عبور کر گیا۔

ڈیٹا کی ریکوری اور سیکیورٹی سوالات: کمپنی کے بانی جر کرین کے مطابق، اس ہنگامی صورتحال کے بعد ماہرین کی ٹیم نے دن رات کام کیا اور خوش قسمتی سے واقعے کے دو روز بعد کمپنی کا تمام ڈیٹا کامیابی سے ریکور (بحال) کر لیا گیا ہے۔ اگرچہ نقصان پر قابو پا لیا گیا ہے، لیکن اس واقعے نے عالمی سطح پر اے آئی سسٹمز کو دی جانے والی خود مختاری، ان کے کنٹرول اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا اے آئی سسٹمز پر مکمل بھروسہ کرنا انسانی ڈیٹا کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔