LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار پیپلز پارٹی کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کررہی ہے، عظمیٰ بخاری کا الزام بلاول بھٹو کی کشمیریوں سے بذریعہ ووٹ فیصلہ کرنے کی اپیل بانی پی ٹی آئی رہائی فورس معاملہ: سہیل آفریدی کا آئینی عدالت میں جواب جمع یوکرین بالآخر اپنے مغربی علاقے کھو دے گا: صدر پوتن کا دعویٰ لاہور ہائیکورٹ نے مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر دیا ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ہوئے: پینٹاگون بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد، کسی بھی مہم جوئی کیلئے تیار ہیں: دفتر خارجہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، خودمختاری کا دفاع ترجیح ہے: ایران گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر

افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کرے،ترجمان پاک فوج کا دو ٹوک اعلان

Web Desk

29 November 2025

ڈی جی آئی ایس پی آر نے 25 نومبر کو سینئر صحافیوں سے ملاقات میں ملکی سلامتی کی موجودہ صورتحال اور سرحدی چیلنجز سے متعلق اہم بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک 4,910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں 206 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔

ترجمان کے مطابق رواں سال ملک بھر میں 67,023 جبکہ خیبرپختونخوا میں 12,857 اور بلوچستان میں 53,309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سرحد انتہائی مشکل اور دشوار گزار علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ دنیا بھر میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دو ممالک مل کر انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دراندازی میں افغان طالبان کی مکمل سہولت کاری شامل ہے۔ترجمان نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے متعلق بارڈر مینجمنٹ پر گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، جبکہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اکثر خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں صوبے میں آزادانہ گھوم رہی ہیں تو ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان میں اب بھی دہشتگردوں کے مراکز موجود ہیں جہاں القاعدہ، داعش اور دیگر تنظیموں کی قیادت موجود ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟”انہوں نے بتایا کہ 2021 کے بعد افغانستان میں ریاست کی تشکیل ہونی چاہیے تھی مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ پاکستان نے تمام شواہد افغان حکام کے سامنے رکھ دیے ہیں جنہیں وہ نظر انداز نہیں کر سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان رجیم نے نان اسٹیٹ ایکٹرز کو پناہ دے رکھی ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کا مسئلہ افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان طالبان رجیم سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ “خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے”۔ اگر فتنہ الخوارج پاکستانی ہیں تو افغان حکام انہیں پاکستان کے حوالے کریں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کرے تاکہ خطے میں امن و استحکام ممکن ہو سکے