LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاسداران انقلاب کا کویت میں امریکا کی علی السالم ایئربیس پر حملے کا دعویٰ علیم خان صرف بیان نہ دیں، استعفیٰ دے کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں: سوشل میڈیا صارفین کا شدید ردِعمل امریکا نے چین، بھارت، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں لگا دیں سینٹ کام نے ایران کے امریکی طیارے تباہ کرنے کے دعوے مسترد کر دیئے ہمارے مخالفین آپس میں کسی بات پر متفق نہیں، ہماری سیاست صرف ترقی ہے: احسن اقبال بھارت کی موجودہ قیادت نفرت کی سیاست سے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے: سفیر فیصل نیاز ترمذی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد جہنم واصل بھارت فلسطین کیخلاف اسرائیل کو اسلحہ اور دفاعی پرزے فراہم کرتا رہا: ایمنسٹی انٹرنیشنل ترک وزیر خارجہ کی حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات، امن مذاکرات پر زور اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال وفاقی آئینی عدالت کا ریٹائرڈ ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ وزیراعظم کی بجلی چوری کے خاتمے کیلئے سخت اقدامات کی ہدایت کشمیر میں انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہئے، بلٹ سے نہیں: بلاول بھٹو نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی

متوفی ملازمین کے کوٹے پر ورثا کو ملازمت دینے کا فیصلہ برقرار

Web Desk

1 January 2026

سپریم کورٹ نے متوفی سرکاری ملازمین کے کوٹے پر بچوں اور ورثا کو ملازمت دینے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سندھ حکومت کی اپیلیں خارج کر دیں۔

جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ سندھ سول سرونٹس قانون کا رول 11-A ایک فلاحی اور مفید قانون ہے، جس کا مقصد دوران ملازمت وفات پانے والے، معذور یا نااہل سرکاری ملازمین کے خاندانوں کو سہارا دینا ہے۔

عدالت نے تاکید کی کہ ایسے فلاحی قوانین کی تشریح ہمیشہ وسیع مقاصد اور ہمدردانہ انداز میں کی جانی چاہیے تاکہ مستحق افراد کو فائدہ پہنچ سکے۔ اگر کسی ملازم کی وفات کے وقت اس کے بچے نابالغ ہوں اور بیوہ کو ملازمت نہ دی گئی ہو، تو بچوں کے بالغ ہونے پر درخواست دینے کے حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے جنرل پوسٹ آفس اسلام آباد کیس کا حکم کالعدم قرار دیا، تاہم اس کا اطلاق صرف آئندہ کے لیے ہوگا اور ماضی کے معاملات پر نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ، جسٹس ہاشم کاکڑ کے بنچ نے منشیات کے مقدمے میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی قانون کی موجودگی میں صوبائی قانون کے تحت زیادہ سخت سزا دینا آئین کے آرٹیکل 143-A کے خلاف ہے۔ درخواست گزار ساجد خان کے خلاف ایف آئی آر وفاقی قانون کے تحت درج تھی، لیکن ٹرائل اور اپیلٹ کورٹ نے خیبر پختونخوا کے قانون کے تحت سخت سزا سنائی۔ سپریم کورٹ نے صوبائی سزا کالعدم کرتے ہوئے ساجد خان کو وفاقی قانون کے تحت پانچ سال قید بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

عدالت نے نابالغ لڑکے کے قتل کے مقدمے میں ملزم کی عمر قید میں نرمی کرتے ہوئے 20 سال قید بامشقت میں تبدیل کر دی۔ عدالت کے مطابق واقعہ اچانک جھگڑے کے دوران پیش آیا اور پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہیں ہوئی۔ مقتول کے ورثا کو دی جانے والی تین لاکھ روپے کی دیت اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سزا برقرار رہے گی۔ یہ واقعہ 7 اپریل 2012 کو چشتیاں میں پیش آیا تھا۔