LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک سٹی میں پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث ضلع ٹانک میں کرفیو نافذ امریکی ریاست منی سوٹا میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، حملہ آور بھی ہلاک برنی سینڈرز کی ٹرمپ پر کڑی تنقید، ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ سعودی عرب کی آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی مذمت شادی کی تقریب میں حملہ: ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کا تحقیقات کیلئے عالمی عدالت سے رجوع روس خفیہ طور پر ایران کو جدید سپر سونک کروز میزائل تیار کرنے میں مدد دے رہا: برطانوی میڈیا جرمنی میں ڈرون حملے کی کوشش، یورپی یونین کا روس پر دباؤ بڑھانے کا اعلان ایران نے شادی کی تقریب پر حملے کو واشنگٹن کی اخلاقی گراوٹ کی ایک اور مثال قرار دیدیا امریکی حملوں میں 19 افراد شہید، 108 زخمی ہوئے: ایرانی وزیر صحت کی تصدیق ایران اسرائیل کیساتھ دوبارہ جنگ سے پہلے امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا: عالمی تجزیہ کار صومالی تنظیم الشباب اور یمنی حوثیوں کے درمیان فوجی تعاون بڑھانے کی اطلاعات میری ٹائم اتحاد میں شمولیت کیلئے ضروری مراحل مکمل کر لیے گئے، سعودی وزارت دفاع جنگ بندی کے باوجود رواں سال غزہ میں اسرائیلی حملوں سے 900 سے زائد فلسطینی شہید: وزارتِ صحت جغرافیائی، سیاسی کشیدگی: 86 ٹن سونا امریکا اور کینیڈا سے برطانیہ منتقل

خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس بیت گئے

Web Desk

26 December 2025

اردو ادب کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس گزر گئے، مگر وہ اپنی شاعری کے ذریعے آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ محبت، خوشبو، پھول، ہوا اور تتلی جیسے خوبصورت استعارے ان کے اشعار کی پہچان ہیں۔

پروین شاکر 4 نومبر 1952ء کو کراچی کے ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے نوعمری میں ہی ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ابتدا میں نثر نگاری بھی کی، مگر شاعری نے انہیں اصل شناخت دی، جہاں غزل اور نظم دونوں میں ان کا منفرد انداز نمایاں رہا۔

ان کا پہلا مجموعۂ کلام “خوشبو” 1976ء میں شائع ہوا جس نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا اور انہیں “خوشبوؤں کی شاعرہ” کا خطاب ملا۔ ان کی دیگر معروف تصانیف میں صد برگ، خودکلامی، انکار، ماہِ تمام، کفِ آئینہ اور گوشۂ چشم شامل ہیں۔

اردو ادب میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پروین شاکر کو آدم جی ادبی ایوارڈ اور 1990ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔

پروین شاکر 26 دسمبر 1994ء کو اسلام آباد میں ایک کار حادثے میں 42 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں، مگر ان کی شاعری آج بھی قارئین کو اپنی خوشبو سے مسحور کیے ہوئے ہے۔