LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 11 افراد شہید، متعدد زخمی پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ درست نہیں، مجبوراً کنٹینرز لگا کر روکنا پڑتا ہے: گورنر پنجاب بیلاروس کی جدید طبی ٹیکنالوجی قابلِ تحسین ہے، چیئرمین سینیٹ سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ، اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے: عطا تارڑ بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار بھارت ریاستی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے: صائمہ سلیم پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ہے: خواجہ آصف اسلام آباد میں احتجاج کے تماشے کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا: رانا ثنا

معروف شاعر احمد راہی کو ہم سے بچھڑے 24 برس بیت گئے

Web Desk

2 September 2026

لاہور: اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر، صحافی اور بے مثال فلمی نغمہ نگار احمد راہی کی 24 ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

12 نومبر 1923 کو امرتسر میں پیدا ہونے والے احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے دوران ہی شاعرانہ سفر کا آغاز کیا اور معروف شاعر سیف الدین سیف سے اصلاح لیتے رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے، جہاں ان کے دوست ساحر لدھیانوی بھارت جانے سے قبل ادبی جریدے ’سویرا‘ کی ادارت ان کے سپرد کر گئے۔ 1953 میں شائع ہونے والا ان کا پہلا پنجابی شعری مجموعہ ’ترنجن‘ اتنا مقبول ہوا کہ اسے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا گیا۔

احمد راہی نے 1948 میں سعادت حسن منٹو کے مشورے پر فلم ’بیلی‘ سے گیت نگاری کا آغاز کیا اور اپنے کیریئر میں 100 سے زائد فلموں کے لیے 300 سے زیادہ لازوال گیت تحریر کیے۔ ان کی نغمہ نگاری نے ’ہیر رانجھا‘، ’مرزا جٹ‘، ’سسی پنوں‘ اور ’یکے والی‘ جیسی تاریخی فلموں کو بے مثال کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اردو فلم ’بازار‘ کے مشہور گیت پر انہیں نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ پنجابی و اردو ادب اور فلمی دنیا کا یہ روشن ستارہ 2 ستمبر 2002 کو ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا تھا، تاہم ان کے تحریر کردہ دلفریب نغمے آج بھی شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔