LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم ’اپنا گھر اسکیم‘: دو ماہ میں منظور شدہ ہاؤسنگ فنانسنگ میں 117 فیصد کا ریکارڈ اضافہ اسلام آباد ہائیکورٹ: راول جھیل کنارے نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا 2022ء کا فیصلہ کالعدم ریاض: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اہم سائبر سیکیورٹی معاہدے پر دستخط یونٹی فوڈز کے شیئرز میں مبینہ انسائیڈر ٹریڈنگ، ایس ای سی پی کی تحقیقات میں تیزی امیر جماعت اسلامی کا کل ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن

معروف شاعر احمد راہی کو ہم سے بچھڑے 24 برس بیت گئے

Web Desk

2 September 2026

لاہور: اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر، صحافی اور بے مثال فلمی نغمہ نگار احمد راہی کی 24 ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

12 نومبر 1923 کو امرتسر میں پیدا ہونے والے احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے دوران ہی شاعرانہ سفر کا آغاز کیا اور معروف شاعر سیف الدین سیف سے اصلاح لیتے رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے، جہاں ان کے دوست ساحر لدھیانوی بھارت جانے سے قبل ادبی جریدے ’سویرا‘ کی ادارت ان کے سپرد کر گئے۔ 1953 میں شائع ہونے والا ان کا پہلا پنجابی شعری مجموعہ ’ترنجن‘ اتنا مقبول ہوا کہ اسے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا گیا۔

احمد راہی نے 1948 میں سعادت حسن منٹو کے مشورے پر فلم ’بیلی‘ سے گیت نگاری کا آغاز کیا اور اپنے کیریئر میں 100 سے زائد فلموں کے لیے 300 سے زیادہ لازوال گیت تحریر کیے۔ ان کی نغمہ نگاری نے ’ہیر رانجھا‘، ’مرزا جٹ‘، ’سسی پنوں‘ اور ’یکے والی‘ جیسی تاریخی فلموں کو بے مثال کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اردو فلم ’بازار‘ کے مشہور گیت پر انہیں نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ پنجابی و اردو ادب اور فلمی دنیا کا یہ روشن ستارہ 2 ستمبر 2002 کو ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا تھا، تاہم ان کے تحریر کردہ دلفریب نغمے آج بھی شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔