LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی حملوں میں درجنوں امریکی فوجی زخمی ہوئے اور نقصانات چھپایا گیا: نیویارک ٹائمز ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے، محسن نقوی نے استقبال کیا فیلڈ مارشل سے کینیڈین وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق آبنائے ہرمز سے امریکی اتحادیوں کی آمدورفت مشکل بنائیں گے، ایرانی فوج کا انتباہ لنڈی کوتل اور جمرود میں سیلابی ریلے میں بہنے والے 6 افراد کی لاشیں برآمد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہاں چوتھے بچے کی ولادت؛ نوزائیدہ بیٹے کا نام ایلک نیل وینس رکھ دیا 7 ویں این ایف سی اور آرٹیکل 160 کی وضاحت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا ہے: مزمل اسلم اینڈی برنہم نے برطانیہ کے 59ویں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں نیا سنگِ میل، اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مالی گوشوارے طلب کر لیے امریکا سے لڑائی کے باوجود ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے: ایران پاکستان اور کینیڈا کے درمیان ترجیحی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق عمران خان سے ملاقاتوں کا کیس: عدالت کا جیل انتظامیہ سے ریکارڈ پیش کرنے کا حکم امریکا کا بوشہر میں زیر تعمیر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ خطے کیلئے خطرناک ہے: ایران وفاقی حکومت کا کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ

ہماری نہ وزیر اعظم ، آرمی چیف سے کوئی لڑائی ہے,مولانا فضل الرحمان

Web Desk

5 November 2025

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کو کھلواڑ نہیں بننا چاہئے، اور اگر یہی روش برقرار رہی تو عوام کا آئین پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک سال میں دوسری آئینی ترمیم لانا غیر سنجیدہ عمل ہے، جب جبر کے تحت ترامیم کی جائیں گی تو عوامی اعتماد مجروح ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں چونتیس شقوں پر حکومت کو دستبردار کرایا تھا، مگر اب چھبیسویں ترمیم سے بچائے گئے نکات کو دوبارہ شامل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستائیسویں ترمیم کا مسودہ تاحال اپوزیشن کو فراہم نہیں کیا گیا، تاہم پوری اپوزیشن مل کر متفقہ رائے تشکیل دے گی۔ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ معتدل سیاسی ماحول کو شدت کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ افغان حکومت سے ہے مگر سزا مہاجرین کو دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہوتے ہیں، یہ بات چیت پہلے ہی ہو سکتی تھی۔”
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ “ہماری نہ وزیر اعظم، نہ آرمی چیف، اور نہ بیوروکریسی سے کوئی لڑائی ہے،” ہم ملک میں تلخی کم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “دینی مدارس کے معاملے میں ہر حکومت ایک جیسی پالیسی کیوں اپناتی ہے؟” اور زور دیا کہ “کسی بھی حکومت میں مساجد کے اماموں کو کم معاوضہ دینا ناانصافی ہے۔”
ملاقات کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے شکر گزار ہیں۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے محمود خان اچکزئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اپوزیشن متفقہ لائحہ عمل اپنائے گی۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ “مولانا فضل الرحمان نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا تھا،” اور مطالبہ کیا کہ “محمود خان اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفکیشن جلد از جلد جاری کیا جائے۔