LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کی آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن پر زور ٹرمپ کا ایران جنگ جلد ختم کرنے کا دعویٰ، یوکرین میں سٹارلنک کا مسئلہ حل کرانے کی یقین دہانی اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ملاقات، تجارتی، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق شہباز شریف کی صدر آزاد کشمیر سے ملاقات، کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم کراچی: پورٹ قاسم پر ایل پی جی کے 2 بحری جہاز پہنچ گئے، 7 ہزار 600 میٹرک ٹن سے زائد گیس درآمد پاکستان اور دنیا بھر میں پاکستانی سفارتی مشنز پر ای پاسپورٹ کا اجرا شروع تائیوان میں سمندری طوفان چمپی کی تباہ کاریاں، ایک شخص ہلاک، 171 زخمی امریکی سفارتخانے کے زیرِ اہتمام پہلی ’شاہکار فنکار‘ ایلومنائی آرٹسٹ نمائش کا افتتاح، مینا ہارون کے فن پارے پیش ورلڈ بینک کی پاکستان میں معاشی استحکام کی تعریف، 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کا اجرا اور پائیدار ترقی کے عزم کا اعادہ عوام کو ریلیف دلانے کیلئے جماعت اسلامی کی تحریک جاری رہے گی: لیاقت بلوچ ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کو سٹریٹجک شکستوں کا سامنا ہے: پاسداران انقلاب 23 سال بعد پاکستانی سربراہ مملکت کا دورہ جرمنی، صدر زرداری کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب پنجاب اسمبلی اجلاس 26 اکتوبر کو طلب کرنے کی تیاری، اہم بلز اور آرڈیننس پیش ہونے کا امکان وزیراعظم کا 2027 کیلئے گندم کی مجوزہ قیمت 4 ہزار 500 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ اسلام آباد میں مین ہٹن طرز کا منصوبہ بنانے کا اعلان، سعودی سرمایہ کاروں کو دعوت

ہماری نہ وزیر اعظم ، آرمی چیف سے کوئی لڑائی ہے,مولانا فضل الرحمان

Web Desk

5 November 2025

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کو کھلواڑ نہیں بننا چاہئے، اور اگر یہی روش برقرار رہی تو عوام کا آئین پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک سال میں دوسری آئینی ترمیم لانا غیر سنجیدہ عمل ہے، جب جبر کے تحت ترامیم کی جائیں گی تو عوامی اعتماد مجروح ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں چونتیس شقوں پر حکومت کو دستبردار کرایا تھا، مگر اب چھبیسویں ترمیم سے بچائے گئے نکات کو دوبارہ شامل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستائیسویں ترمیم کا مسودہ تاحال اپوزیشن کو فراہم نہیں کیا گیا، تاہم پوری اپوزیشن مل کر متفقہ رائے تشکیل دے گی۔ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ معتدل سیاسی ماحول کو شدت کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ افغان حکومت سے ہے مگر سزا مہاجرین کو دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہوتے ہیں، یہ بات چیت پہلے ہی ہو سکتی تھی۔”
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ “ہماری نہ وزیر اعظم، نہ آرمی چیف، اور نہ بیوروکریسی سے کوئی لڑائی ہے،” ہم ملک میں تلخی کم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “دینی مدارس کے معاملے میں ہر حکومت ایک جیسی پالیسی کیوں اپناتی ہے؟” اور زور دیا کہ “کسی بھی حکومت میں مساجد کے اماموں کو کم معاوضہ دینا ناانصافی ہے۔”
ملاقات کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے شکر گزار ہیں۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے محمود خان اچکزئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اپوزیشن متفقہ لائحہ عمل اپنائے گی۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ “مولانا فضل الرحمان نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا تھا،” اور مطالبہ کیا کہ “محمود خان اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفکیشن جلد از جلد جاری کیا جائے۔