LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
27 اگست سے مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، پی ٹی آئی کی توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات دور عمران خان کا علاج: جمائما کی جانب سے برطانوی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے مداخلت کی درخواست غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ بھی ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا: عدالت امریکا کا H-1B ویزا کیپ پٹیشنز پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کرنے کی تجویز کا اعلان عائشہ وہاب نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی، کانگریس کا حصہ بننے والی پہلی افغان امریکی خاتون میر رضا علی خان کیس: سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ، JIT تشکیل دینے کے حوالے سے قانونی سوالات پر جواب طلب سینیٹ اجلاس: 2025 کے سیلاب سے معیشت کو 853 ارب روپے کا نقصان ہوا، PM آفس کا تحریری جواب ایران سے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی، دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی: محسن نقوی پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کوششیں کر رہا ہے: اسماعیل بقائی ایران 20 سال تک جنگ لڑنے کے لئے تیار ہے: جنرل امیر حاتمی فیلڈ مارشل کی ایرانی قیادت سے تعمیری ملاقاتیں، کشیدگی میں کمی پر غور چین کا اسرائیل، فلسطین امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ سعودیہ اور فرانس کے درمیان سرمایہ کاری سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط امریکا نے شام کو دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا

امریکا کا بوشہر میں زیر تعمیر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ خطے کیلئے خطرناک ہے: ایران

Web Desk

20 July 2026

ایران نے امریکا پر بوشہر کے متعدد شہری مقامات اور دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر حملہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے پُرامن انفراسٹرکچر پر ایک خطرناک حملہ قرار دیا ہے۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور عدم استحکام کی تمام تر ذمہ داری امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے، اور ایران اپنی قومی سلامتی و مفادات کے دفاع کے لیے مناسب جوابی اقدامات کا پورا حق رکھتا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے دارخوین سائٹ پر مبینہ حملے کی رپورٹس کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ آئی اے ای اے نے واضح کیا ہے کہ یہ تنصیب تعمیر کے ابتدائی مراحل میں ہے اور آخری معائنے تک وہاں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا، جس کے باعث تابکاری کے کسی خطرے کا امکان نہیں۔ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی نے تمام جوہری تنصیبات کے قریب عسکری کارروائیوں میں انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کو دہرایا ہے۔