LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
20 جولائی سے اب تک 48 سعودی تیل بردار بحری جہازوں کو روکا گیا، حوثی گروپ کا دعویٰ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں آبنائے باب المندب بند کرنے پر غور شروع کر دیا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اب تک کوئی رقم جاری نہیں ہوئی، سربراہ ایران مرکزی بینک امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکر ناکہ بندی توڑ کر آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس داخل شہزادہ ہیری کا رواں ماہ فیملی سمیت امریکا سے برطانیہ واپس آنے کا فیصلہ ٹرمپ کا ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے سخت اقتصادی کارروائی کا اعلان ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو باقر قالیباف کی عراقی وزیراعظم سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق عالمی فوجداری عدالت کے عہدیداروں پر امریکی پابندیاں، انتونیو گوتریس کا اظہار تشویش ترکیہ کو شام میں فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، نیتن یاہو اسرائیلی فوج کی پہلی بار ہند رجب کے خاندان پر فائرنگ کی تصدیق موساد سربراہ کا شامی وزیر خارجہ سے رابطہ، شام میں ترک فوج کی موجودگی پر گفتگو روس میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر گیا، درآمدات شروع حکومت کا ڈیزل کی قیمت میں بڑا ریلیف، پٹرول مزید مہنگا کر دیا میر رضا قتل کیس، جبران ناصر کا وزیراعلیٰ سندھ کو خط، تفتیشی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

عمران خان سے ملاقاتوں کا کیس: عدالت کا جیل انتظامیہ سے ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

Web Desk

20 July 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جیل انتظامیہ سے ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ اور تفصیلی جامع رپورٹ 3 ہفتوں کے اندر طلب کر لی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت پنجاب حکومت کی جانب سے درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا گیا، تاہم جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو اگلی سماعت پر واضح طور پر بتایا جائے کہ جیل میں اب تک کتنی ملاقاتیں ہوئیں، کب ہوئیں اور کن کن افراد نے ملاقات کی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے جیل کے باہر میڈیا ٹاک نہ کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کو دی گئی یقین دہانی کا ذکر کرتے ہوئے اس کی پاسداری پر بھی سوالات اٹھائے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کی استدعا پر رپورٹ جمع کرانے کے لیے 3 ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔