حکومت کا مینڈیٹ جعلی،سوال اٹھاتا ہوں عمران خان گرفتار کیوں ہیں، مولانا فضل الرحمان
Web Desk
18 December 2025
چکوال میں میڈیاسے گفتگو کرتےہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کے پاس اصل مینڈیٹ ہی موجود نہیں، یہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں، جعلی مینڈیٹ کے باوجود بھی حکومت صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی محض سہارا بنی ہوئی ہے، یعنی یہ جعلی اکثریت نہیں بلکہ جعلی اقلیت کی حکومت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب آئین کے خلاف قانون سازی کی جائے گی تو اس کا مطلب آئین سے بغاوت ہوگا، جس کے بعد ان کا مینڈیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اسی لیے ہم باہمی مشاورت سے ایک متفقہ مؤقف سامنے لانا چاہتے ہیں۔
مولانافضل الرحمان نے کہا کہ جہاں تک 28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں کی بازگشت کا تعلق ہے، تو اصولی بات اور ہے اور عملی حقیقت کچھ اور ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا، ہم نے دلائل کے ساتھ مخالفت کی اور اس کے نقصانات سے آگاہ بھی کیا لیکن اسٹیبلشمنٹ خود کو عقل کل سمجھتی رہی اور آج وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ فیصلہ غلط تھا اور اب باقی صوبوں کو بھی تقسیم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے لیے زمینی حالات سازگار ہیں؟ یا کل پھر ہم روئیں گے کہ ہم نے ملک کو نقصان پہنچایا، یہ لوگ بات تو کر لیتے ہیں، پھر طاقت کے زور پر فیصلے نافذ بھی کر دیتے ہیں، فاٹا کا انضمام بھی طاقت کے زور پر کیا گیا اور آج وہاں مسلح گروپس نے علاقے پر قبضہ جما لیا ہے اور ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔
مولانافضل الرحمان نے کہا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ 75،78 برسوں میں نہ پاکستان کی افغان پالیسی درست رہی اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کوئی مثبت نتیجہ دے سکی ہے۔
امیر جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ فیصلے سیاست دانوں کو کرنے ہوتے ہیں، طاقت تو ان کے فیصلوں کے بعد استعمال ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن اور دیگر اداروں کی خرابیوں پر بھی اجتماعی رائے قائم ہونی چاہیے اور 22 تاریخ کو علما کی کانفرنس میں اس پر واضح مؤقف سامنے آ جائے گا۔
مولانافضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا بھی ایک جمہوری ملک میں افسوس ناک ہے، میں تو یہ بھی سوال اٹھاتا ہوں کہ وہ گرفتار کیوں ہیں؟ نہ میں سیاست دانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں اور نہ ملاقاتوں پر پابندی کے حق میں ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کس کی ہے اور اصل فیصلے کون کر رہا ہے؟ ہم سب انہی فیصلوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
سینٹ کام نے ایران کے امریکی طیارے تباہ کرنے کے دعوے مسترد کر دیئے
30 July 2026
ہمارے مخالفین آپس میں کسی بات پر متفق نہیں، ہماری سیاست صرف ترقی ہے: احسن اقبال
30 July 2026
بھارت کی موجودہ قیادت نفرت کی سیاست سے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے: سفیر فیصل نیاز ترمذی
30 July 2026
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
30 July 2026
شان مسعود انجری کے باعث ویسٹ انڈیز کیخلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر
30 July 2026
خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد جہنم واصل
30 July 2026
بھارت فلسطین کیخلاف اسرائیل کو اسلحہ اور دفاعی پرزے فراہم کرتا رہا: ایمنسٹی انٹرنیشنل
30 July 2026
ترک وزیر خارجہ کی حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات، امن مذاکرات پر زور
30 July 2026