LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں لڑائی، 24 گھنٹوں میں 68 ہلاکتیں اسحاق ڈار سے ترک سفیر، برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقاتیں، علاقائی صورتحال پر مشاورت پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان کا سلسلہ برقرار وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ

مصنوعی مٹھاس سے فالج کا خطرہ، نئی تحقیق میں دماغی خلیوں کے نقصان کا خدشہ

Web Desk

18 September 2026

مصنوعی مٹھاس (Artificial Sweetener) کے طور پر وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے کیمیائی مرکب ‘اسپرٹیم’ (Aspartame) کے حوالے سے ایک نئی طبی تحقیق نے فالج کے دوران دماغی بافتوں کو پہنچنے والے شدید نقصان سے متعلق اہم اور تشویشناک سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسپرٹیم کا استعمال فالج کی صورت میں دماغی خلیوں کی موت اور معذوری کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے، تاہم طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ان نتائج کی انسانوں پر حتمی تصدیق کے لیے مزید وسیع تجربات کی ضرورت ہے۔ اسپرٹیم عام طور پر ڈائٹ اور زیرو شوگر کولڈ ڈرنکس، شوگر فری چیونگ گم اور کم کیلوریز والی مٹھائیوں میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔

لیبارٹری میں چوہوں پر کی گئی اس تحقیق کے دوران ایک ہفتے تک اسپرٹیم ملا پانی پلانے کے بعد ان میں ‘اسکیمک فالج’ (Ischemic Stroke) جیسی کیفیت پیدا کی گئی۔ نتائج کے مطابق جن چوہوں کو اسپرٹیم نہیں دیا گیا تھا ان کے دماغی بافتوں (Brain Tissues) کا مردہ رقبہ تقریباً ۲۴.۳ فیصد رہا، جبکہ زیادہ مقدار میں اسپرٹیم کا استعمال کرنے والے چوہوں میں یہ شرح تشویشناک حد تک بڑھ کر ۵۸.۶ فیصد تک جا پہنچی۔ اسپرٹیم کے باعث خاص طور پر ‘سیریبرل کارٹیکس’ اور ‘ہپپو کیمپس’ میں خلیوں کی وسیع پیمانے پر ہلاکت دیکھی گئی، جو کہ انسانوں میں بھی سوچنے، سیکھنے اور یادداشت جیسے اہم افعال انجام دیتے ہیں۔

تحقیق کے دیگر تفصیلی تجربات کے دوران انسانی اور جانوروں کے دماغی خلیوں میں توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت ۲۵ فیصد تک کم پائی گئی۔ محققین کے مطابق اسپرٹیم خلیوں کے توانائی مرکز ‘مائٹوکونڈریا’ (Mitochondria) کو نقصان پہنچاتا ہے اور اندرونی آکسیڈیٹو اسٹریس میں اضافہ کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، ٹیسٹ کے دوران دیگر دو مصنوعی سویٹنرز ‘سکرالوز’ (Sucralose) اور ‘ایسیسلفیم پوٹاشیم’ کا بھی جائزہ لیا گیا لیکن ان میں اسپرٹیم جیسا زہریلا اثر سامنے نہیں آیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق عام حالات میں اسپرٹیم کے نقصان دہ ہونے کا براہِ راست ثبوت نہیں، بلکہ اس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ فالج کے دوران آکسیجن کی شدید کمی میں یہ مرکب مزید کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے۔