LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں لڑائی، 24 گھنٹوں میں 68 ہلاکتیں اسحاق ڈار سے ترک سفیر، برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقاتیں، علاقائی صورتحال پر مشاورت پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان کا سلسلہ برقرار وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے لاہور مال روڈ دھرنا 33 روز بعد ختم کر دیا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں: 17 دہشت گرد ہلاک، 9 جوان شہید، بھاری اسلحہ برآمد شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کیلئے مشعلِ راہ، لہو رائیگاں نہیں جائے گا: صدر، وزیراعظم امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو سزا سنا دی گئی طاقت اور دباؤ سے مطالبات منوانے کا یک طرفہ نظام ختم ہو چکا، باقر قالیباف چین نے مشرق وسطیٰ و افریقہ میں فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کی اپنی صلاحیت بڑھا لی پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج: سویڈن کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا

میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ

Web Desk

18 September 2026

میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے سینئر پولیس افسران کو شخصی طور پر طلب کرنے کے بجائے ان سے تحریری جواب حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے گزشتہ روز ہونے والی سماعت کا باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں کارروائی کی تفصیلی پیش رفت اور آئندہ کے قانونی طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔

حکم نامے کے مطابق کمیشن نے گزشتہ سماعت کے دوران سابق تفتیشی افسر شبیر لغاری کا بیان ریکارڈ کیا، جبکہ مقتول میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد کا موقف بھی تفصیلاً سنا گیا۔ سماعت کے دوران احمد نے میر رضا کے اہل خانہ سے ملاقات اور گفتگو کے لیے وقت کی استدعا کی، جس پر کمیشن نے قرار دیا کہ اہل خانہ سے بات چیت کے بعد اگر احمد مزید کوئی موقف دینا چاہے تو وہ حلف نامے کے ذریعے پیش کر سکتا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ حلف نامے کے ذریعے جمع کرایا گیا یہ بیان عوامی معلومات کے لیے دستیاب ہو گا۔

حکم نامے میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ تھانہ فیروز آباد اور تھانہ گلستانِ جوہر کے روزنامچے سیل شدہ حالت میں کمیشن کو موصول ہوئے، تاہم بدقسمتی سے روزنامچوں سے متعلق متعلقہ گواہان کے بیانات پہلے ہی ریکارڈ کیے جا چکے تھے۔ اس صورتحال کے مدنظر کمیشن نے دونوں روزنامچے اسی حالت میں حکومتِ سندھ کے فوکل پرسن کو واپس کر دیے ہیں۔ علاوہ ازیں، جوڈیشل کمیشن نے تحقیقاتی عمل میں مکمل تعاون فراہم کرنے پر نجی بینک کے سی ای او اور ڈویژنل سربراہ کی خدمات کو بھی سراہا ہے۔