LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کا ملائیشین وزیر خارجہ سے رابطہ، تجارت، اقتصادی تعاون بارے گفتگو پی ٹی آئی لانگ مارچ، اہم رابطے کا انکشاف دہشتگردوں سے بات چیت نہیں ہوگی، ریاست کی پالیسی واضح ہے: ترجمان پاک فوج خلع کے حق مہر سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ جاپان میں 20ویں ایشین گیمز کا آغاز، پاکستانی دستے کی پروقار انٹری اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر زور اسلام آباد معاہدے پر واپس آنے کی کوششیں جاری ہیں: ایرانی وزارتِ داخلہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے کوئی قتل و غارت نہیں ہوگی، مصطفیٰ کمال پنجاب میں سی ٹی ڈی کے 158 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 23 دہشت گرد گرفتار سول سروس میں اصلاحات کیلئے سمارٹ ریفارمز پیکیج تیار، اہم ترامیم کی تجویز مشترکہ جائیداد کی نیلامی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قرار عدالتی فائل گمشدگی کیس، سزا پانے والا اہلکار 15 سال بعد بری امریکی صدر ٹرمپ نے روس اور ایران پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے سکیورٹی فورسز کی پنجگور اور چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک کیوبا میں ایک سال میں ساتواں بلیک آؤٹ، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا

پٹیالہ گھرانے کے نامور فنکار استاد امانت علی خان کو دنیا چھوڑے 52 برس بیت گئے

Web Desk

17 September 2026

کلاسیکی موسیقی اور غزل گائیکی کے عظیم نام ور استاد امانت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 52 برس بیت گئے۔ پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے ممتاز فنکار استاد امانت علی خان 1932ء میں شام چوراسی کے پٹیالہ خاندان میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان کے پروگراموں سے اپنی گائیکی کا آغاز کیا اور انتہائی مختصر عرصے میں اپنے ہم عصروں جن میں مہدی حسن اور غلام علی شامل ہیں، کے درمیان اپنا ایک منفرد اور ممتاز مقام بنا لیا۔

استاد امانت علی خان نے ‘انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو’، ‘موسم بدلا رت گدرائی’ اور ‘ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام بھی آئے’ جیسے متعدد لازوال گیت اور غزلیں گائیں جو آج بھی شائقینِ موسیقی میں بے پناہ مقبول ہیں۔ ان کی موسیقی کی دنیا کے لیے شاندار خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی سمیت کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ استاد امانت علی خان 17 ستمبر 1974ء کو محض 42 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی نسل جن میں ان کے فرزند شفقت امانت علی اور رستم فتح علی خان شامل ہیں، نے کلاسیکی گائیکی کے اس خوبصورت سلسلے کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔