LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

آئی ٹی برآمدات بڑھانے کیلئے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری ترجیح ہے: شزا فاطمہ

Web Desk

12 September 2026

لاہور: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت نے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کو 50 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچانے کا عزم کر رکھا ہے اور اس مقصد کے لیے ہنرمند انسانی وسائل کی تیاری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف ایک لاکھ تربیت یافتہ آئی ٹی ماہرین قومی معیشت میں 1 ارب ڈالر کا گراں قدر اضافہ کر سکتے ہیں۔ اسی لیے حکومت آئی ٹی انڈسٹری کے ساتھ مل کر مسلسل ترقی اور برآمدات بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر آئی ٹی شعبے کی ترقی کے لیے پاکستان کی مؤثر مارکیٹنگ اور عالمی تاثر کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ پاکستان کو اس وقت ہنرمند انسانی وسائل کی کمی کا سامنا ہے، جس کے حل کے لیے اسکول سے یونیورسٹی کی سطح تک نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق درست تربیت دینا انتہائی ضروری ہے۔

شزا فاطمہ نے بتایا کہ حکومت بڑے پیمانے پر تربیتی پروگرامز کا انعقاد کر رہی ہے، لیکن ٹیکنالوجی کی تیزی سے بدلتی دنیا کے ساتھ قدم ملانے کے لیے مزید ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

کاروباری ماحول پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی ایک تیزی سے منتقل ہونے والی صنعت ہے جہاں لین دین اور کاروبار میں آسانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ دبئی اور سنگاپور جیسے مراکز میں ٹیک کمپنیاں چند منٹوں میں رجسٹر ہو جاتی ہیں؛ اسی طرح پاکستان میں بھی آئی ٹی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مکمل سازگار اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا ہوگا تاکہ غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کو آسانیاں میسر آ سکیں۔